مغربی میڈیا چین میں مسلمانوں سے متعلق منفی منظر کشی کرنے میں مصروف ہے

1949 میں 40 لاکھ مسلمان چین کے سنکیانگ صوبے میں تھے، اب مسلمانوں کی تعداد 1 کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے : چینی سفیر ژاؤ جنگ کا بیان

Usama Ch اسامہ چوہدری بدھ جنوری 20:21

مغربی میڈیا چین میں مسلمانوں سے متعلق منفی منظر کشی کرنے میں مصروف ..
بیجنگ (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 15 جنوری 2020) : مغربی میڈیا چین میں مسلمانوں سے متعلق منفی منظر کشی کرنے میں مصروف ہے، 1949 میں 40 لاکھ مسلمان چین کےسنکیانگ صوبے میں تھے، اب مسلمانوں کی تعداد 1 کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے، تفصیلات کے مطابق چین کے سفیر ژاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا چین میں مسلمانوں سے متعلق منفی منظر کشی کرنے میں مصروف ہے، 40 لاکھ مسلمان چین کےسنکیانگ صوبے میں تھے، اب مسلمانوں نے تعداد 1 کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاک چین دوستی پر مغربی میڈیا پر سی پیک اور دیگر احوال سے باتیں کی جاتی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات ناقابل قبول ہیں، مقبوضہ کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کونظر انداز کیا گیا، ہماری ذمہ داری ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

(جاری ہے)

انکا کہنا ہے کہ سی پیک میں کام سست روی کا شکار نہیں ہوا، سی پیک کے اب دوسرے مرحلے میں کام معاشرتی سطح پر ہو گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل چین کے ایک خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد شاہ محمد بن سلمان نےاویغو مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے سلوک پر چین کی حمایت کرتے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق شاہ سلمان نے یہ بیان دیا تھا کہ چین جیسے چاہے اپنے ملک سے دہشتگردی کو ختم کر سکتا ہے، یہ اسکا حق ہے۔ قبل ازیں بی بی سے نے رواں سال ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ چین جان بوجھ کر اپنے مغربی صوبے سنکیانگ کے مسلمان بچوں کو ان کے خاندان، مذہب اور زبان سے الگ کر رہا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب سنکیانگ میں ہزاروں افراد کو ’تربیتی کیمپوں‘ میں زیر حراست رکھا جا رہا ہے، وہیں وسیع پیمانے پر ایک اور مہم کا آغاز بھی کیا گیا ہے جس میں بورڈنگ سکول تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بی بی سی نے اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت اکٹھے کئے جانے کا دعویٰ بھی کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ان ثبوتوں کی بنیاد عوامی سطح پر دستیاب دستاویزات پر ہے اور انھیں بیرون ملک مقیم افراد نے اپنی شہادتوں سے مزید سہارا دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق صرف ایک شہر میں ہی 400 سے زیادہ بچوں کو اپنے والدین سے الگ کیا گیا ہے۔ ان والدین کو کیمپوں یا جیلوں میں زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے رپورٹ میں کہا تھا کہ سنکیانگ میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کی شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کو منظم طریقے سے ان کی جڑوں سے دور کیا جارہا ہے۔ اب شاہد آفریدی نے چین میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ جاری امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھادی ہے۔ سابق سٹار کرکٹر نے چینی سفارتخانے سے درخواست کی ہے کہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روکا جائے۔