فیصل واوڈا لائیوشو میں بوٹ لے کر کیسے پہنچے

بوٹ تھیلے میں لے کر گیا تھا، بوٹ لے کر جانے کی ساری ذمہ داری میری تھی، میں نے وزیراعظم کو کہا کہ آئندہ ایسا نہیں کرونگا، مستقبل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرونگا: وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی گفتگو

Usama Ch اسامہ چوہدری بدھ جنوری 20:47

فیصل واوڈا لائیوشو میں بوٹ لے کر کیسے پہنچے
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین 15 جنوری 2020) : فیصل واوڈا لائیوشو میں بوٹ لے کر کیسے پہنچے، بوٹ تھیلے میں لے کر گیا تھا، بوٹ لے کر جانے کی ساری ذمہ داری میری تھی، میں نے وزیراعظم کو کہا کہ آئندہ ایسا نہیں کرونگا، مستقبل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرونگا۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے وفاقی وزیربرائے آبی وسائل فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو میری بوٹ والی بات پسند نہیں آئی، میں وزیر اعظم کو کہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں درست کہہ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ میں بوٹ تھیلے میں لے کر گیا تھا، بوٹ لے کر جانے کی ساری ذمہ داری میری تھی۔ یاد رہے کہ ایک نجی ٹی وی میں میز پر بوٹ رکھ کر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے آبی وسائل فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ن لیگ بوٹ کو چوم کراور نیچے لیٹ کر اقتدار میں آئی، اس بوٹ میں چمک اس وجہ سے ہے کہ ن لیگ والوں نے اسے ہاتھ سے نہیں بلکہ زبان سے صاف کیا ہے، انھوں نے ہر موقع پر اسے چوما ہے۔

(جاری ہے)

اںھوں نے کہا تھا کہ پہلے دن سے کہ رہا ہوں کہ نواز شریف کی بیماری ڈرامہ ہے، سمجھوتے کرنے والے بڑکیں نہیں مارتے پھرتے۔ انھوں نے کہا کہ مریم نواز ووٹ کی عزت کے نعرے مارتی پھرتی تھیں، لندن کے ریسٹورنٹ میں سارے بھگوڑے اوراشتہاری ایک ساتھ بیٹھے تھے، مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔ اس سے قبل نواز شریف کی تصویر کے معاملے پر نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انکا کہنا تھا کہ پلیٹ لیٹس میں اتار چڑھاو دیکھنے میں آیا ہے، ڈاکٹرز نے آج نواز شریف کے مزید بلڈ ٹیسٹ کیے ہیں، اہلخانہ نے منت سماجت کرکہ نواز شریف کو چہل قدمی کے لیے آمادہ کیا، اس معاملے کو بھی سیاسی رنگ دے دیا گیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ذہنی دباؤ سے دور رہنے کے لیے گھر سے باہر نکلنا بھی علاج کا ایک حصہ ہے۔ اس سے گذشتہ روز سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تھی جس میں لندن کے ایک ہوٹل میں موجود ہیں۔تصویر میں نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف،اسحاق ڈار اور دونوں صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز بھی موجود ہیں،چونکہ نواز شریف ضمانت پر رہا ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں لہذا اس تصویر نے سب کو حیران کر دیا تھا تاہم اب وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لے لیا تھا۔

وزیراعظم نے نواز شریف کی ہوٹل میں کھانا کھانے کی تصویر پر نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو ٹیلیفون کیا ۔عمران خان نے یاسمین راشد سے استفسار کیاتھا کہ باہر جا کر وہ کھانا کھا رہے ہیں،یہ بیمار ہیں یا تندرست؟ وزیراعظم نے یہ بھی پوچھا کہ نواز شریف کی رپورٹس آئیں یا نہیں؟۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے نواز شریف کی فوری رپورٹس منگوائیں۔

انہوں نے کہاتھا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس منگوا کر حقائق سامنے لائیں۔اس سے قبل وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے نواز شریف پر تنقید کی۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کھاؤ پیو بیماری کا علاج انتہائی انہماک سے جاری ہے اور سارے مریض بہتر محسوس کر رہے ہیں۔۔جب کہ دوسری جانب ،شریف فیملی کاکہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ابھی تک متوازن نہیں ہو سکی ہے۔

کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت بدستور ناساز ہے اور رپورٹس میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا تھا کہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کی صحت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، نئے سال کی چھٹیوں کے بعد ہیماٹالوجی والوں سے ملاقات ہوگی۔