بھائی کی موت اذیت ناک تھی، گٹکے پر پابندی عائد کی جائے،بہن عدالت میں روپڑی

زیادہ تر کینسر گٹکا کھانے کی وجہ سے ہو رہا ہے، سندھ حکومت کی جانب سے قانون سازی میں تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے،گٹکے پر پابندی کے حوالے سے سماعت کے دوران عدالت کے ریماکس

پیر فروری 14:57

بھائی کی موت اذیت ناک تھی، گٹکے پر پابندی عائد کی جائے،بہن عدالت میں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 فروری2020ء) سندھ ہائی کورٹ میں گٹکے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران مدعی کی بہن عدالت کو گٹکے کے استعمال کے اذیت ناک انجام اور بھائی کی موت کی تفصیل بتاتے ہوئے آب دیدہ ہو گئیں جبکہ دوران سماعت عدالت نے ریماکس دیئے کہ زیادہ تر کینسر گٹکا کھانے کی وجہ سے ہو رہا ہے، سندھ حکومت کی جانب سے قانون سازی میں تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے، شہر میں گٹکے کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے، کیا گٹکا استعمال کرنے والوں نے منہ کے کینسر میں مبتلا لوگوں کی تصاویر دیکھی ہیں ۔

پیرکوسندھ ہائی کورٹ میںگٹکے، مین پوری اور ماوے پر پابندی کے حوالے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پولیس اور سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور پی ایس کیو سی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 3 ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی۔

(جاری ہے)

سندھ ہائیکورٹ نے رینجرز اور پولیس سے گٹگا مافیا کے خلاف مشترکہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائیکورٹ نے کٹگا فروخت کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں گٹکا مافیا کے خلاف پولیس کا آپریشن بھی بہت سست ہوگیا ہے جس کی وجہ سے تاثر مل رہا ہے پولیس گٹکا مافیا سے ملی ہوئی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد اقبال نے کہا کہ رپورٹس کے مطابق زیادہ تر کینسر گٹکا کھانے کی وجہ سے ہو رہا ہے، سندھ حکومت کی جانب سے قانون سازی میں تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے۔سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ بتایا جائے رینجرز اور پولیس نے گٹکا مافیا کے خلاف کیا کارروائی کی گٹکا فروخت کرنے والوں کے خلا ف کتنے مقدمات درج کیے، گٹکا کہاں فروخت ہو رہا ہی ۔

عدالت کے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے نمائندہ رینجرزنے بتایاکہ رینجرز پولیس کی کال پر کٹگا مافیا کے خلاف کارروائی کے لیے مدد کرتی ہے، گٹکا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار پولیس کے پاس ہے۔اس دوران عدالت نے استفسار کیا کہ 4 سے 5 ماہ ہوچکے ہیں قانون سازی کیوں نہیں ہورہی ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے جواب دیا کہ بل کابینہ سے منظوری کے بعد گورنر سندھ کو بھیجا گیا ہے۔

مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کے مدعی مقدمہ نسیم حیدر منہ کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔عدالت میں نسیم حیدر کی بہن اور والدہ بھی پیش ہوئیں، متوفی کی بہن نے روتے ہوئے استدعا کی کہ میرے دو بھائی تھے، دونوں ہی کینسر سے انتقال کر گئے، میرے بھائی کی بہت اذیت ناک موت ہوئی، گٹکے کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔مدعی کے وکیل مزمل ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ نسیم حیدر کے منہ میں کیڑے پڑ گئے تھے، غسل دیتے ہوئے لوگ گھبرا رہے تھے۔

مدعی کے وکیل نے کہا کہ جوڑیا بازار میں گٹکے کی فروخت اور اس کے کارخانے چل رہے ہیں، پولیس حکام نے بتایا کہ پورے صوبے میں گٹکے کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے کہا کہ رینجرز بھی گٹکا فروشوں کے خلاف کریک ڈائون اور پولیس کی مدد کرے، آیندہ سماعت تک بتایا جائے پولیس نے کتنے آپریشن کیے، کتنی ایف آئی آر کاٹیں، آئی جی سندھ بھی گٹکے، مین پوری کے خلاف کارروائی تیز کر دیں، آیندہ سماعت تک قانون سازی کے حوالے سے بھی حتمی رپورٹ پیش کی جائے۔ بعد ازاں، سندھ ہائی کورٹ میں مزید سماعت 3 مارچ تک ملتوی کر دی۔