ترک صدر کے دورے کے دوران آرمی چیف اور عمران خان اکٹھے نظر کیوں نہ آئے؟

کوئی سازش نہیں ہے بلکہ طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے دوران طے کیا گیا کہ سول معاملات وزیراعظم جب کہ ڈیفنس معاملات آرمی چیف دیکھیں گے۔ صابر شاکر

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 11:10

ترک صدر کے دورے کے دوران آرمی چیف اور عمران خان اکٹھے نظر کیوں نہ آئے؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 فروری 2020ء) گذشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تاہم اس دوان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ موجود نہ تھے جس پر صحافیوں کی جانب سے کئی سوالات بھی اٹھائے گئے۔اسی پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے معروف صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ اس تمام معاملے کے پیچھے کوئی منفی چیز نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان ایوان صدر میں نہیں تھے تاہم وہاں آرمی چیف موجود تھے۔

عمران خان اپنی مصروفیات میں مشغول تھے،لیکن خواہ مخواہ سازشوں کی باتیں کی گئی،اس کے بعد جب آرمی چیف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نظر نہ آئے تو بھی سوالات اٹھائے گئے،کیونکہ آرمی چیف وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے معاہدوں کے دوران بھی موجود نہ تھے۔

(جاری ہے)

باقی دونوں افواج کے سربراہ موجود تھے۔صابر شاکر نے مزید کہا کہ یہ کسی سازش کے تحت نہیں ہوا بلکہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جی ایچ کیو میں اہم امور میں مصروف تھے۔وزیراعظم کو بھی آرمی چیف کی مصروفیات کا علم تھا۔اور اس کا علم طیب اردوان کو بھی تھا۔طے ہوا تھا کہ سول معاملات وزیراعظم ہاؤس میں دیکھے جائیں گے جب کہ ڈیفنس سے متعلقہ معاملات جی ایچ کیو میں دیکھے جائیں گے جہاں ترک وزیر دفاع وہاں موجود تھے اور وہاں تمام دفاعی معاملات دیکھے گئے جب کہ دوسری جانب عین اسی وقت وزیراعظم ہاؤس میں کئی معاہدے ہو رہے تھے۔

صابر شاکر نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے:
جب کہ دوسری جانب دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں پاک ترک اعلی سطحی سٹریٹجک تعاون کونسل کے میکنزم پر زور دیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف لڑائی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت اور تہذیب سے نہیں جوڑا جا سکتا، دونوں ممالک نے دہشتگردی اور نسل پرستانہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔