وزارت ریلوے نے ایم ایل ون کا تازہ ترین پی سی ون وزارت منصوبہ بندی میں جمع کرا دیا

اس میں پچھلے پی سی ون کے مقابلے میں پراجیکٹ کے مجموعی اخراجات میں کمی کی گئی ہے، ترجمان وزارت ریلوے

بدھ فروری 22:10

وزارت ریلوے نے ایم ایل ون کا تازہ ترین پی سی ون وزارت منصوبہ بندی میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 فروری2020ء) وزارت ریلوے نے ایم ایل ون کا تازہ ترین پی سی ون بدھ کو وزارت منصوبہ بندی میں جمع کرا دیا ہے، اس پی سی ون میں پچھلے پی سی ون کے مقابلے میں پراجیکٹ کے مجموعی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔ پچھلے پی سی ون میں اس کا خرچہ9.248 بلین ڈالرتھا جبکہ اس پی سی ون میں اخراجات 9.172 بلین ڈالر تک محدود کئے گئے ہیں۔

قومی اقتصادی کونسل سے اس کی منظوری اپریل 2020ء تک متوقع ہے جس کے بعد اس پراجیکٹ پر باقاعدہ کام شروع کر دیا جائے گا۔ پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق پاکستان ریلوے نئے انتظامی ڈھانچے اور بہتر انسانی وسائل کے ساتھ اس پراجیکٹ کو مینج کرے گا۔ یہ مکمل طور پر پاکستان ریلوے کا پراجیکٹ ہے اس میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں کو روزگار مہیا کیاجائے گا۔

(جاری ہے)

کراچی سے پشاور تک مین لائن کو تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ جہاں موجودہ ٹریک کی اپ گریڈیشن اور ڈبل لائن بچھانے کے بعد ٹرینوں کی رفتار 120سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔اس سے نہ صرف عوام کے پٹرول اور وقت کی بچت ہوگی بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی یہ منصوبہ مددگار ثابت ہوگا۔ ایم ایل ون کی تکمیل کے بعد کراچی سے لاہور کا فاصلہ10گھنٹے میں ، اسلام آباد سے لاہور کادورانیہ ڈھائی گھنٹے ، لاہو ر سے ملتان کا فاصلہ 3گھنٹے میں، پشاور سے اسلام آبادکا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے میں اور کراچی سے حیدرآباد کا فاصلہ 1گھنٹہ 20 منٹ میں طے ہوگا۔ 1872 کلومیٹر کے اس ٹریک میں کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سے حویلیاں تک مین لائن شامل ہے۔