چینی چوری کے فیصلوں کی منظوری عمران ،بزدار صاحب نے دی اور کرپشن شریف خاندان کی ملوں نے کر لی ‘مسلم لیگ (ن)

عمران اور بزدار صاحب کو چینی چوری کے فیصلوں کی منظوری دینے کی میٹنگ کیسے یاد نہیں ‘ترجمان مریم اورنگزیب کے سوالات

جمعہ مئی 11:54

چینی چوری کے فیصلوں کی منظوری عمران ،بزدار صاحب نے دی اور کرپشن شریف ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مئی2020ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم عمران خان سے چینی انکوائری کمیشن رپورٹ سے متعلق سوالات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمشن بنانا، رپورٹ شائع کرنا سب عمران صاحب کو بچانے کا ایک سرکس اور نوٹنکی ہے ،چینی چوری کے فیصلوں کی منظوری عمران اور بزدار صاحب نے دی اور کرپشن شریف خاندان کی ملوں نے کر لی ،عمران اور بزدار صاحب کو چینی چوری کے فیصلوں کی منظوری دینے کی میٹنگ کیسے یاد نہیں ۔

مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ واہ ری معصومیت عمران صاحب نے بطور وزیراعظم چینی کی سبسڈی، برآمداور مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت بڑھانے کی اجازت دی ،انہیں کمیشن میں کیوں نہیں بلایا گیا ،اصل چینی چور عمران صاحب کا رپورٹ سے نام غائب کرنے سے جرم ثابت ہو گیا ،اگر نواز شریف بطور وزیراعظم قانون کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں تو چینی چور عمران صاحب کیوں نہیں ، شہباز شریف جھوٹے مقدمات میں نیب کے عقوبت خانے میں رہ سکتے ہیں تو عمران اور بزدار صاحب کو جرم ثابت ہونے پر گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خسرو بختیار کے بھائی سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی کیونکہ ان کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں تو عمران صاحب بتائیں کہ مریم نواز ، حسن ، حسین ، سلمان شہباز اور یوسف عباس کے پاس کون سا سیاسی عہدہ تھا ، شریف خاندان پر جھوٹے مقدمات کیوں بنائے، روزانہ کی بنیاد پر ان کا میڈیا ٹرائل کیوں کیا گیا ،مریم نواز شریف کے پاس کون سا سیاسی عہدہ تھا کہ انہیں دو مرتبہ سزائے موت کی چکی اور نیب کے عقوبت خانے میں رکھا گیا،خسرو بختیار کے بھائی کے کاروبار سے تعلق نہیں تو پھر شہباز شریف کا ان کے بچوں کے کاروبار سے تعلق کیسے بنتا ہے ،چینی پرسبسڈی، برآمد سمیت ہر فیصلے کے ذمہ دار عمران صاحب ہیں، یہ سچ کیوں نظر نہیں آیا ۔

ا نہوںنے کہا کہ شریف خاندان کی شوگر ملزقانون کے مطابق کام کرتی ہیں، ایف بی آر ہر سال سرٹیفائے کرتا ہے تو کرپشن کیسے ہو گئی ،شریف خاندان کی کسی مل نے ایک دھیلے کی چینی برآمد نہیں کی ، چینی برآمد کا ثبوت لائیں نواز شریف کی رمضان شگر مل بند پڑی ہے پھر اس میں کرپشن کہاں سے ہو گئی ،خسرو بختیار کی پنجاب کی کسی بھی شوگر مل کو تحقیقاتی کمیشن میں شامل کیوں نہیں کیا گیا ، پہلی رپورٹ میں شریف خاندان کی مل کا نام موجود نہیں تھا، عمران خان کو بچانے کے لئے شہبازشریف کے نام کی پرچی ڈالی گئی ،عمران صاحب کوئی شرم بھی ہوتی ہے کوئی حیا بھی ہوتی ہے۔