مسلم لیگ (ن) نے چینی پر فرائنزک انکوائری رپورٹ مسترد کردی

عمران خان،عثمان بزدار،اسد عمر اور زراق دائود کیخلاف فوری مقدمات درج کرنے کا مطالبہ

جمعہ مئی 22:39

مسلم لیگ (ن) نے چینی پر فرائنزک انکوائری رپورٹ مسترد کردی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 مئی2020ء) مسلم لیگ (ن) نے عمران خان،عثمان بزدار،اسد عمر اور زراق دائود کیخلاف فوری مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔مسلم لیگ (ن) نے چینی پر فرائنزک انکوائری رپورٹ مسترد کردی۔نام نہاد صادق امین حکمرانوں کو چینی چوری کا جواب دینا ہو گا۔عمران خان اور عثمان بزدار مقدس گائے نہیں ہیں۔چینی کی کم پیداوار کے باوجود باہر کیوں بھیجی گئی۔

ای سی سی کے فیصلے پر وفاقی کابینہ نے عمل درآمدکیا۔جہانگیرترین نے شوکت خانم ہسپتال کو بھی 42لاکھ روپے دیے۔ن لیگ کے دور میں سبسڈی دے کر یقینی بنایا گیا کہ چینی کی قیمت نہیں بڑے گی۔40کروڑ کی ٹرانسزیشن خسرو بختیار کے ملازم کے اکائونٹ سے ہوئی۔اختیارات سے تجاوز کرنے پر ان کیخلاف کیس بنیں گے۔

(جاری ہے)

رپورٹ آنے کے بعد عمران خان کو فوری مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

موجودہ حکومت کے سبسڈی دینے کے باوجود چینی کی قیمت 55روپے سے بڑھ کر 100روپے پہنچ گئی۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری،ملک احمد خان اور رانا مشہود نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔عظمیٰ بخاری نے کہا نیا پاکستان اور تحریک انصاف کا یہ معیار ہے کہ جو چینی ایکسپورٹ کا فیصلہ کرے اس کا قصور نہیں۔جس جس شخص سے عمران کا کام پورا ہوگیا ہے ان سے چھٹکارے کے لیے یہ رپورٹ تیار کی گئی۔

خسرو بختیار کو بھی پیغام دیا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کی بات نہیں کرنی۔چوہدری برادران سے بھی انکے تعلقات ٹھیک نہیں۔سبسڈی جو نہیں بنتی وہ عمران نے زبانی احکامات دے کر دی گئی۔سبسڈی دینا کیا اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں۔شوکت خانم کو بھی 42 لاکھ جہانگیر ترین کی جانب سے دئیے گئے۔کمیشن کی رپورٹ کہتی ہے کہ وہ رزاق داؤد اسد عمر اور وزیراعلی پنجاب کے جوابات سے مطمئن نہیں۔

یہ تمام کے تمام مستقبل کے نیب کیسسز ہیں۔اگر آپ کو تھوڑی سے بھی شرم ہوتی تو کمیشن کی رپورٹ کے بعد استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ملک میں چینی کی قلت جان بوجھ کر پیدا کی گئی۔ن لیگ کے دور حکومت میں چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو سے زائد فروخت نہیں ہوئی۔صادق و امین کی حکومت میں چینی کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 85 روپے تک گئی۔اس رپورٹ کے آنے کے بعد عمران خاں بچ نہیں سکتے۔

چینی کے معاملے پر سٹہ بھی کھیلا گیا۔ایک سٹے باز ہمیشہ سٹے باز ہی ہوتا ہے۔ملک احمد خان نے کہا 2018 میں چینی کی بد ترین قلت پیدا کی گئی اور قیمتیںبڑھائیں گئیں۔رزاق داؤد خسرو بختیار کا اپنا اسٹیک ہے۔بیوروکریسی نے انھیں بتایا بھی کہ اگر ایکسپورٹ ہوتی ہے تو قلت پیدا ہوگی۔یہ ایک کچھ لوگوں کو نوازنے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کی گئی۔حکومت نے کوئی ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

سی سی سی کے فیصلوں میں کن لوگوں نے رائے دی تھی کہ ایکسپورٹ کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔یہ کیسا اصول ہے کہ جس نے ایکسپورٹ کی اجازت دی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں۔جس نے یہ فیصلہ کیا اس پر تمام زمہ داری عائد ہوتی ہے۔20 سے 25 روپے فی کلو فائدہ اٹھایا گیا۔پنجاب کے افسران نے پنجاب حکومت کو بتایا بھی کہ یہ وفاقی معاملہ ہے۔مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔

کمیشن وزیر اعظم کی زمہ داری سے متعلق خاموش ہے۔وزیراعظم اور وزیراعلی مقدس گائے ہیں۔ان کے فیصلوں کی وجہ سے چینی کی قلت پیدا ہو تو کوئی نہیں پوچھے گا۔شریف فیملی کی کسی ملز نے چینی ایکسپورٹ نہیں کی اور نہ ہی سبسڈی لی۔مسلم لیگ ن کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتی ہے۔رانا مشہود احمد نے کہا یہ اٹھائی گیروں کا ٹولہ ہے جو پاکستان کو لوٹنے آئے ہیں۔

ان ڈکیتوں کا راستہ روکنا انتہائی ضروری ہے۔شہباز شریف نے اپنے دورے حکومت میں چینی کی قیمت نہ بڑھنے دیا۔فوڈ سیکیورٹی کی وزارت کا نوٹ موجود ہے کہ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دی جائے۔لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے اجازت دی گئی۔عمار کیانی کا کیس ختم نہیں ہوا کہ ایک اور کیس آگیا ہے۔بھارت سے ادویات غیر قانونی طور پر پاکستان لائی گئیں۔

مودی کا دوست نواز شریف نہیں آپ ہیں۔پانامہ میں نواز شریف کا نام نہیں تھا اس کے باوجود بھی طلب کیا گیا۔کیا عمران خاں کو کمیشن میں پیش نہیں ہونا چاہیے تھا۔عمران خان استعفیٰ دو کمیشن کے آگے پیش ہو۔عمران خان کو نواز شریف کے فارمولے کے تحت کمیشن میں پیش ہونا چاہیے۔ہم واجد ضیاء کے اس کمیشن کو مسترد کرتے ہیں۔کمیشن نے عمران کو بچانے کے لیے کام کیا۔مطالبہ کرتے ہیں کہ کمیشن نے عمران بزدار،خسرو بختیار کو بچانے کے لیے کام کیا ہے۔