Live Updates

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، فوجی کریک ڈاون میں مسلسل اضافہ اورمقبوضہ علاقوں میں آبادی کے توازن کو تبدیل کرنے کے اقدامات پر پاکستان کوتشویش ہے،

بھارت نفرت کی پرچار، نسل پرستی اورمسلم اقلیتوں کے خلاف اسلاموفوبیا پھیلانے میں مصروف عمل ہے، پاکستان کوخدشہ ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کے حربہ کے ذریعہ ایک اورمہم جوئی کرسکتاہے، بھارت کو غیرقانونی اقدامات سے روکنے میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو موثر کردار اداکرنا ہوگا، وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیوگوئتریش کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطے میں اظہار انٹونیوگوئتریش نے کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ میں ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت اورافسوس کااظہارکیا

جمعہ مئی 23:15

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 مئی2020ء) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، فوجی کریک ڈاون میں مسلسل اضافہ اورمقبوضہ علاقوں میں آبادی کے توازن کو تبدیل کرنے کے اقدامات پر پاکستان کوتشویش ہے، بھارت نفرت کی پرچار، نسل پرستی اورمسلم اقلیتوں کے خلاف اسلاموفوبیا پھیلانے میں مصروف عمل ہے، پاکستان کوخدشہ ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کے حربہ کے ذریعہ ایک اورمہم جوئی کرسکتاہے، پاکستان کسی بھی مذموم مقاصد اور عزائم کا بھرپوراورموثرجواب دے گا،مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال کومزید خراب ہونے سے بچانے اورجنوبی ایشیاء میں امن اور سلامتی کویقینی بنانے کیلئے بھارت کو غیرقانونی اقدامات سے روکنے میں سلامتی کونسل اوراقوام متحدہ کو موثر کردار اداکرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے ان خیالات کااظہارجمعہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیوگوئتریش کے ساتھ جموں وکشمیرکی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پرٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں کیا۔ سیکرٹری جنرل نے کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ میں ہونے والے جانی نقصان پروزیرخارجہ کے ساتھ تعزیت اورافسوس کااظہارکیا۔ وزیرخارجہ نے سیکرٹری جنرل کاشکریہ اداکیا اورانہیں حادثہ میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں آگاہ کیا۔

جموں وکشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذکرکرتے ہوئے وزیرخارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، فوجی کریک ڈاون میں مسلسل اضافہ اورمقبوضہ علاقوں میں آبادی کے توازن کو تبدیل کرنے کے اقدامات پر سیکرٹری جنرل کو پاکستانی تشویش سے آگاہ کیا، انہوں نے اس ضمن میں سیکرٹری جنرل کی توجہ مقبوضہ کشمیرمیں حالیہ ڈومیسائل قوانین کی طرف مبذول کرائی اورکہاکہ یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداوں، بین الاقوامی قانون اورچوتھے جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، وزیرخارجہ نے اس بات پرافسوس کااظہارکیاکہ کورونا وائرس کی وباء کے باوجود بھارت مقبوضہ کشمیر میں سخت لاک ڈاون نافذ کررہاہے اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جعلی مقابلوں و سرچ آپریشنز ، ماورائے عدالت قتل عام اوردیگر جابرانہ اقدامات میں تیزی لائی جارہی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ اپنے اندرونی مسائل سے دنیاء کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارتی قابض فوج مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جابرانہ ہتھکنڈوں میں تیزی لارہی ہے ، بھارت نفرت کی پرچار، نسل پرستی اورمسلم اقلیتوں کے خلاف اسلاموفوبیا پھیلانے میں مصروف عمل ہے، پاکستان کوخدشہ ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کے حربہ کے ذریعہ ایک اورمہم جوئی کرسکتاہے۔ پاکستان نے اس ضمن میں عالمی برادری کو پہلے سے خبردارکیاہے کہ پاکستان کسی بھی مذموم مقاصد اور عزائم کو بھرپوراورموثرجواب دے گا۔

وزیرخارجہ نے اس عزم کااعادہ کیا کہ بھارت کی جانب سے مخصوص معلومات کی فراہمی کی صورت میں نام نہاد لانچ پیڈز کے الزامات پرحقایق جانچنے کیلئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپ کو اجازت دینے کیلئے تیارہے،بھارت کے الزامات کا بنیادی مقصد کشمیریوں کی اپنی تحریک حریت کوبدنام کرنا ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت کی سیاسی اورفوجی قیادت کی جانب سے جارحانہ بیانات سے خطے کے امن اورسلامتی کوخطرہ ہے۔

انہوں نے سیکرٹری خارجہ کو بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا ، انہوں نے ایل اوسی کی تمام خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے گروپ کی اہمیت کو بھی اجاگرکیا۔ وزیرخارجہ نے مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال کومزید خراب ہونے سے بچانے اورجنوبی ایشیاء میں امن اورسلامتی کویقینی بنانے کیلئے بھارت کو غیرقانونی اقدامات سے روکنے میں سلامتی کونسل اوراقوام متحدہ کے موثر کردار کی ضرورت پرزوردیا۔

انہوں نے کورونا وائرس کی وباء کی آڑ میں بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف مہم پر بھی سیکرٹری جنرل کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔سیکرٹری جنرل نے جموں وکشمیر کی صورتحال سے بروقت آگاہی اورجامع بریفنگ پر وزیرخارجہ کاشکریہ اداکیا۔ انہوںنے کہاکہ ان کی صورتحال پرگہری نظرہے اوراوراس معاملے میں اپنا کرداراداکریں گے۔وزیراعظم عمران خان کے ترقی پذیرممالک کیلئے قرضوں میں سہولت کے عالمگیراقدام کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ عالمی معیشت کی بحالی کیلئے ترقی پذیرممالک کیلئے قرضوں میں سہولت ایک اہم راستہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے عالمی اقتصادی فورم کے کوویڈ ایکشن پلیٹ فارم کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کے دوران اس حوالہ سے پاکستان کا موقف پیش کیاہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان ترقی پذیرممالک کیلئے طویل المعیاد قرضوں کے ضمن میں سیکرٹری جنرل کی کوششوں کا حامی ہے۔سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ کینیڈا اورجمیکا کے ہمراہ سیکرٹری جنرل آفس آئندہ ہفتہ ورچوئل اجلاس منعقد کررہاہے جس میں فنانسنگ فارڈولپمنٹ کے موضوع پر گفتگو ہوگی، انہوںنے اس امید کااظہارکیاکہ پاکستان وزیراعظم کی کی سطح پراس تقریب میں شریک ہوگا۔ وزیرخارجہ نے دعوت پر سیکرٹری جنرل کاشکریہ اداکیا۔
کرونا وائرس کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات