وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا42 واں اجلاس آج ہوگا

کورونا وائرس سے متعلق قومی سطح کی حکمت عملی اور اوگرا آرڈیننس پرغور کیا جائے گا.حکومتی ذرائع

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات اگست 12:31

وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا42 واں اجلاس آج ہوگا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 اگست ۔2020ء) وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا42 واں اجلاس آج ہوگا، اجلاس میں کورونا وائرس سے متعلق قومی سطح کی حکمت عملی اور اوگرا آرڈیننس پرغور کیا جائے گا. تفصیلات کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کا42 واں اجلاس آج ہوگا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کورونا کیخلاف قومی سطح کی حکمت عملی پرغور کرے گی‘ اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا، اٹارنی جنرل اور متعلقہ حکام بھی شریک ہوں گے، اجلاس8ماہ بعد طلب کیا گیا ہے، آخری اجلاس گزشتہ سال23دسمبر کو ہوا تھا، آج اجلاس میں اوگرا آرڈی نینس2002میں ترمیم کے معاملے پر غور کیا جائے گا.

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق اوگرا آرڈیننس2002میں ترمیم کا ایجنڈا سندھ حکومت کی سفارش پر شامل کیا گیا ہے، مفادات کونسل لوئر پورشن چشمہ کنال کا کنٹرول پنجاب کو دینے کا فیصلہ کرے گی، قومی کمیشن انسانی ترقی، بنیادی تعلیم کے کمیونٹی اسکولز کے کردار کا تعین کیا جائے گا‘اجلاس میں معدنیات سے متعلق1948کےایکٹ میں ترمیم کا معاملہ بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے، سال18-2017کی مشترکہ مفادات کونسل کی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی جائے گی.

اجلاس میں صوبوں میں پانی کے مسئلے پر کونسل کے فیصلوں کی روشنی میں تجاویز پیش کی جائیں گی،18ویں ترمیم کے بعد ایچ ای سی سے متعلق فیصلوں پرعملدرآمد کا بھی جائزہ بھی لیا جائے گا. دوسری جانب وفاقی وزیراسد عمر کی زیرصدارت اجلاس میں کورونا کے پھیلاﺅکو روکنے کیلئے بڑے پیمانے پرعوامی شعور بیداری مہم کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد کر کے کورونا سے بچا جاسکتا ہے’وفاقی وزیراسد عمر کی زیرصدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا ، وفاقی وزرافخرامام،اعجازشاہ اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے شرکت کی، اجلاس میں صوبوں کی این سی اوسی کوکورونا صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی ، جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں کورونا کے پھیلاﺅ میں واضح کمی آئی ہے، عوامی سطح پرایس اوپیزپر عملدرآمد میں کمی آئی ہے.

وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کہ ملک سے کورونا وائرس کا مکمل طورپرخاتمہ نہیں ہوا، ایس اوپیز پر عملدرآمد کر کے کورونا سے بچا جاسکتا ہے، عوامی مقامات پر ماسک، سماجی فاصلے پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کئے جائیں’اسد عمر نے کہا کہ کوروناکیسزبڑھنے پر حکومت نے ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، 31جون سے قبل اسپتالوں کو 2150 آکسیجن بیڈزفراہمی کافیصلہ ہوا اور صوبوں سے مشاورت کے بعد 2850 آکسیجن بیڈزفراہمی کا آغازکیاہے.

انہوں نے بتایا کہ ملکی ہسپتالوں کوتاحال 2608 آکسیجن بیڈزفراہم کئے جا چکے ہیں، آزادکشمیر 80، بلوچستان کو264 آکسیجن بیڈز، گلگت بلتستان کو100، خیبرپختونخواکو 400 آکسیجن بیڈزفراہم کر دیے ہیں. اسد عمر نے بتایا کہ پنجاب کو787، سندھ کو 351 ، اسلام آباد کے ہسپتالوں کو 626 آکسیجن بیڈزفراہم کئے جا چکے ہیں جبکہ پنجاب،سندھ،کے پی کومزید 242 آکسیجن بیڈزفراہم کئے جائیں گے، سندھ215، پنجاب 17، کے پی کو 10 آکسیجن بیڈز فراہم کئے جائیں گے‘این سی او سی کا وبائی امراض میں اضافہ روکنےکیلئےعوامی بیداری مہم تیزکرنے اور کوروناپھیلاﺅروکنے کیلئے بڑے پیمانے پرعوامی شعوربیداری مہم کے آغازکا فیصلہ کیا.