بھارتی سفارتکار دفتر خارجہ طلب، 17 ستمبر کو کنٹرول لائن کے تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ

جمعہ ستمبر 15:03

بھارتی سفارتکار دفتر خارجہ طلب، 17 ستمبر کو کنٹرول لائن کے تتہ پانی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 ستمبر2020ء) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کی17 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا گیا، بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں تین بے گناہ شہری شدید زخمی ہوگئے۔

جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ بھارتی سفارتکار کا بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحا منافی ہے۔

(جاری ہے)

بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔بھادت نے رواں سال۔کے دوران 2280 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 18بے گناہ شہر ی شہید اور 183 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔