آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی

ملزمان احد چیمہ اور شاہد شفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

جمعرات ستمبر 15:27

لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) احتساب عدالت لاہورنے آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کیس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، سابق سیکرٹری وزیر اعلیٰ پنجاب برائے عملدرآمد فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ سمیت دیگر 13 ملزمان کیخلاف کیس کی سماعت 29ستمبر تک ملتوی کر دی۔عدالت نے ملزمان احد چیمہ اور شاہد شفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی توسیع کرتے ہوئے نیب کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے کیس کی سماعت کی۔ جمعرات کے روزعدالتی سماعت پر سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اور شاہد شفیق کو جوڈیشل ریمانڈ کے بعد جیل سے لاکر پیش کیا گیا۔عدالت نے شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو مستقل حاضری سے استثناٰ دے رکھا ہے۔

(جاری ہے)

شہباز شریف کی جگہ انکے معاون محمد نواز ایڈووکیٹ نے عدالت میں حاضری لگوائی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی جگہ انکے معاون محمد شہباز نے حاضری لگوائی۔

دوران سماعت عدالت میں وکلا نے محکمہ پی ایل ڈی سی کے گواہ پر جرح مکمل کرلی۔ملزمان میں بسم اللہ کنسٹریکشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو شاہد شفیق، بلال قدوائی، امتیاز حیدر,اسرار سعید اور عارف بٹ وغیرہ شامل ہیں۔نیب نے میاں شہباز شریف, احد چیمہ اور فواد حسن فواد سمیت دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔ریفرنس تین والیومز اور ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے جس میں شہباز شریف پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ریفرنس کے مطابق شہباز شریف نے پنجاب لینڈ ڈویلپمینٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اختیار حاصل کئے اور پی ایل ڈی سی کو غیر قانونی طور پر کہا کہ آشیانہ کا منصوبہ ایل ڈی اے کو دیا جائے جبکہ اس وقت ایل ڈی اے کی سربراہی شہباز شریف کے قریبی ساتھی احد چیمہ کر رہے تھے۔ریفرنس کے مطابق لطیف اینڈ سنز کمپنی کا کنٹریکٹ غیر قانونی طور پر منسوخ کرکے پبلک پارٹنرشپ کے تحت ٹھیکہ منظور نظر بسم اللہ انجینئرنگ کو دیا گیا۔

شہباز شریف کے اس اقدام سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ریفرنس کے مطابق فواد حسن فواد نے غیرقانونی طور پر من پسند کمپنی کو نوازنے کی کوشش کی تو وہیں شہباز شریف نے پی ایل ڈی سی کے بڈنگ پراسس کو روکنے کا حکم بھی دیا جبکہ پی ایل ڈی سی دسمبر 2013 میں آشیانہ اقبال پراجیکٹ کو چلا رہی تھی۔