معاشی ماہرین نے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے موجودہ حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کے اعلان سے سرمایہ کاری متاثر ہونیکا خدشہ ظاہرکردیا

جمعرات ستمبر 16:15

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) معاشی ماہرین نے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک اور جنوری میں اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان سے ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے اور کاروباری اعتماد میں کمی کا خدشہ ظاہرکیاہے ۔ماہرین کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد احتجاجی تحریک،وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبے اور جنوری میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان نے مقامی اور غیر ملکی کاروباری افراد اور کمپنیوں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے ۔

معاشی ماہرین نے کہاکہ کسی بھی ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری وہاں کے سیاسی حالات سے مشروط ہوتی ہے ،سیاسی استحکام کے باعث کاروباری فضا بنتی ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار کھلے دل سے سرمایہ کاری کرتے ہیں،کورونا وائرس کے باعث پہلے ہی سات ماہ معاشی سرگرمیاں انتہائی سست روی کا شکار رہیں اب متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی تحریک کے اعلان نے سرمایہ کاروں کو تذبذب میں مبتلا کردیا ہے ،ماضی میں بھی دھرنوں ،لانگ مارچوں اور احتجاجی تحریک سے نا قابل تلافی معاشی نقصان پہنچا تھا،ہمارا ماننا ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل ایوان میں ہی ہونا چاہیئے اور مذاکرات کے ذریعے ہی تمام مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

زبیر بویجہ نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائینگے جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو نقصان پہنچے اور ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو۔