مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بتدریج کشیدہ اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے،

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، اگر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوئیں تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اس کے سنگین اثرات پڑیں گے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں ترک صدر کی طرف سے کشمیریوں کے حق کیلئے بھرپور انداز سے آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کرتے ہیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

جمعرات ستمبر 19:37

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بتدریج ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بتدریج کشیدہ اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اسلئے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، اگر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوئیں تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اس کے سنگین اثرات پڑیں گے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے حالیہ سیشن کے دوران ترک صدر رجب طیب اردگان کی طرف سے کشمیریوں کے حق کیلئے بھرپور انداز میں آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں پر طاقت کا استعمال کر رہی ہیں لیکن وہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے حوالے سے تحریک کو دبانے میں ناکام رہی ہیں، بھارتی مسلح افواج کی طرف سے کشمیریوں پر طاقت کا بے جا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے، عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعہ کشمیر کو سنجیدگی سے لے اور اسے حل کرانے میں کلیدی کردار ادا کرے۔

(جاری ہے)

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، ہمارا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرانے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کیلئے کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے داخلی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے اور اس نے معصوم اور نہتے کشمیریوں کے خلاف بربریت اور ظالمانہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کورونا کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کے علاوہ اشتعال انگیزی پیدا کر رہا ہے۔