شارجہ میں دو سال تک اپنی موت کا ڈراما رچانے والے پاکستانی کا بھانڈا پھوٹ گیا

چودھری حیاب کمبوہ نے 50 کمپنیوں سے کروڑوں درہم کا سامان لے کر خود کو مردہ ظاہر کر رکھا تھا، عدالت نے ملزم کے خلاف سخت حکم سُنا دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر اکتوبر 12:44

شارجہ میں دو سال تک اپنی موت کا ڈراما رچانے والے پاکستانی کا بھانڈا ..
شارجہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19اکتوبر2020ء ) متحدہ عرب امارات میں آج سے تین سال قبل وفات پانے والا پاکستانی نہ صرف زندہ ہے، بلکہ وہ اپنی جعلی موت کے بعد سے50 سے زائد کمپنیوں سے کروڑوں درہم کا فراڈ بھی کر بیٹھا ہے۔عجمان میں مقیم چودھری حیاب کمبوہ سوہا عارف فوڈ سٹف ٹریڈنگ کمپنی چلا رہا تھا۔ جس نے کئی کمپنیوں کے پیسے ہڑپ کر لیے تھے۔ عدالت نے بھارتی ایکسپورٹ کمپنی مادھو ایمپیکس کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے پر فیصلہ سُناتے ہوئے ملزم کو حکم دیاکہ وہ کمپنی کو 4 لاکھ 70 ہزار درہم رقم فوری طور پر لوٹا دے۔

بھارتی کمپنی نے سوہا عارف کمپنی کو پیاز کے 12 کنٹینر بھیجے تھے، اس پیاز کی مالیت 3 لاکھ 67 ہزار درہم تھی۔اس شخص نے کافی عرصہ تک خود کو مردہ ظاہر کیے رکھا۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بزنس مین چودھری حیاب عارف کمبوہ کے بارے میں 19 جولائی 2017ء میں اْس کے بھائی زریاب کمبوہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی تھی جس میں اْس نے اطلاع دی تھی کہ اْس کا بھائی حیاب کمبوہ شارجہ میں ایک جان لیوا حادثے کے نتیجے میں وفات پا گیا ہے۔

زریاب کمبوہ نے اپنے بھائی کی مردہ حالت میں ایک تصویر بھی لگائی تھی جس میں اْس کے نتھنوں میں رْوئی ٹھْنسی ہوئی تھی اوراْس کی نعش کو کفن میں لپٹادکھایا گیا تھا۔
چودھری حیاب کمبوہ کی وفات پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی دْکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اْسے ایک ’نظریاتی کارکن‘ ظاہر کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے آفیشل فیس بْک پیج سے چلنے والے ایم کیو ایم ٹی ٹیلی ویڑن پر بھی حیاب کمبوہ کی موت کا اعلان کیا گیا تھا۔

اور اْس کے خاندان سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’مرحوم‘ کے ایصالِ ثواب کے لیے دْعا بھی کی گئی تھی۔ تاہم گلف نیوز کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ چودھری حیاب کمبوہ نامی یہ شخص نہ صرف زندہ ہے، بلکہ اس نے عجمان میں ٹھکانہ بنا رکھا ہے اور ایک امپورٹ کمپنی کی آڑ میں اپنی ’موت‘ کے بعد سے درجنوں افراد کو کروڑوں درہم کا چْونا بھی لگا دیا ہے۔

گلف نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بے شمار بھارتی اور انڈونیشیائی ایکسپورٹرز نے رابطہ کر کے بتایا کہ اْن کے ساتھ حیاب عارف کی اپنی ’موت‘ کے 14 ماہ بعد بنائی گئی ایکسپورٹ کمپنی H&MZ گلوبل ورلڈ وائیڈ کی جانب سے مجموعی طور پرکروڑوں درہم کا فراڈ کیا جا چکا ہے۔ان غیر مْلکی ایکسپورٹرز نے حیاب کی کمپنی کی جانب سے ڈیمانڈ کے بعد پھل، سبزیاں اور دالیں بھجوائی تھیں۔

مگر اس کے بدلے میں اْنہیں کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔ حیاب نے دیگر افراد کے ساتھ مِل کر شری سِدھوی نائیک کے ساتھ چاولوں کی خرید میں 93 ہزار ڈالر کا فراڈ کیا ہے، جے کے ایکسپورٹ سے ناریل منگوا کر 39ہزار ڈالر کی رقم ادا نہیں کی گئی، دکشا اوور سیز سے کیلے منگوا کر 18 ہزار ڈالر ادا نہیں کیے گئے، مہا کال سے 20 ہزار ڈالر کے پیاز منگوائے گئے، بِنٹانگ پرساکا سے 31 ہزار کا کوئلہ منگوایا گیا، کے انٹرنیشنل سے 35 ہزار ڈالر کی سْرخ مرچیں منگوائی گئیں، سی وی تری مِترا پرساکا سے 12 ہزار ڈالر کا ناریل منگوایا گیا، جبکہ بھاویا انٹرپرائزز سے 17ہزار کے چاول منگوائے گئے، مگر انہیں بدلے میں رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

بہت سی کمپنیوں نے گلف نیوز کے دفتر رابطہ کر کے بتایا تھا کہ وہ حیاب کمبوہ کے ہاتھوں فراڈ کا نشانہ بنے ہیں۔ ہر گزرتے دِن کے ساتھ دھوکے بازی کی ایک نئی سے نئی کہانی سامنے آ رہی ہے۔ فراڈ کا نشانہ بننے والی کمپنیوں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ اْنہیں حیاب عارف کمبوہ کی جانب سے یہی بتایا جاتا کہ سامان وصول ہونے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر رقم ادا ہو جائے گی۔

مگر کسی ایک کمپنی کو بھی اب تک ادائیگی نہیں کی گئی۔ صرف کمپنیاں ہی نہیں بلکہ انفرادی حیثیت میں کاروبار کرنے والے تاجر بھی اس ’مْردہ‘ پاکستانی کے ہاتھوں بے وقوف بن چکے ہیں۔ حیاب کے ہاتھوں لْٹنے والوں میں زیادہ بڑی گنتی بھارتی شہریوں کی ہے۔ ایک بھارتی شہری اکشے لال جی بھائی نے بتایا کہ جب میں نے واٹس ایپ پیغام پر حیاب کمبوہ سے سامان کے بدلے میں رقم مانگی تو اْس نے مجھے ایک طنزیہ آڈیو پیغام بھیجتے ہوئے کہا ”یار میرا کام لوگوں کو لْوٹنا ہے، یہی میرا کاروبار ہے۔

مجھ سے بڑا بدمعاش آج تک پیدا نہیں ہوا۔ میں تم جیسے لالچی کْتوں کو بوٹی دکھا کر اْنہیں اپنا شکار بناتا ہوں۔ یہی میری زندگی کا انداز ہے۔ تم ایک بے وقوف تھے جس نے مجھ پر اعتبار کر لیا۔مجھ پر پاکستان میں بھی بے شمار کیسز ہیں۔ پھر بھی تمہارا کیا خیال ہے مجھے پاکستان جانے سے کوئی روک سکتا ہے۔“ اس حوالے سے گلف نیوز کے ایک نمائندے نے حیاب عارف کمبوہ سے رابطہ کیا تو اْس نے آڈیو پیغام کے اصلی ہونے کا اعتراف کیا۔

تاہم اْس کا کہنا تھا کہ اْس نے کبھی خود کو مْردہ ظاہر نہیں کیا۔ وہ نہیں جانتا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے اْس کے انتقال کی خبر کیوں چلائی گئی۔ جب اْس سے کفن میں ملبوس تصویر کے حوالے سے پْوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں وہ پاکستان میں تھیٹر میں کام کرتا تھا، ایک سٹیج شو کے دوران اْسے مردہ حالت میں دکھایا گیا تھا، یہ تصویر اْسی موقع پر لی گئی ہے۔

تاہم جب اْس سے سٹیج شو کا نام اور اس کے مقام کے بارے میں پْوچھا گیا تو کہنے لگا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ جب اْس سے پوچھا گیا کہ اْس کے بھائی نے اپنے فیس بْک اکاوٴنٹ پر اْس کی ’مردہ‘ حالت میں تصویر کیوں پوسٹ کی تھی، تو اس کا جواب تھا کہ اْن دِنوں اْس کا اکاوٴنٹ کسی نے ہیک کر لیا تھا اور وہاں میری تصویر لگا دی تھی۔ جب اْس سے پوچھا گیا کہ وہ ایکسپورٹرز کے ساتھ فراڈ کیوں کرر ہا ہے تو حیاب نے کہا کہ اْس نے سب کو رقوم کی ادائیگی کر دی ہے، اْس کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

گلف نیوز کے مطابق چودھری حیاب کمبوہ سے جب پوچھا گیا کہ وہ ایکسپورٹرز سے سامان وصول کرنے کے بعد اْن کی کالز کیوں نہیں سْن رہا تو اس کا کہنا تھا کہ اْس کا موبائل فون گْم ہو گیا ہے۔ اس کے ذمے کچھ رقم واجب الادا ہونے کے باعث وہ فی الحال نئی سِم نہیں نکلوا سکتا۔ اور نہ ہی نکلوانا چاہتا ہے، اْس نے کس کی کتنی رقم ادا کرنی ہے یہ اْس کا ذاتی معاملہ ہے۔