کشمیر تنازعہ ، اقوامِ متحدہ کی ناکامی ایک اور عالمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے، شہر یار آفریدی

ترقی یافتہ ممالک ہی بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والے تصادم کے ذمہ دار ہوں گے، چیئر مین کشمیر کمیٹی

ہفتہ اکتوبر 22:17

کشمیر تنازعہ ، اقوامِ متحدہ کی ناکامی ایک اور عالمی جنگ کا سبب بن سکتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اکتوبر2020ء) چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی نے اقوام متحدہ کیلئے پراسرار خاموشی توڑنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیر پر تنازعات کے حل کے لئے پوری تندہی سے کام کرے کیونکہ اگر بروقت اس مسئلہ کاحل نہ ڈھونڈا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے 75 ویں یوم تاسیس کو منانے کے لئے منعقدہ "تنازعہ کشمیر کے کردار میں اقوامِ متحدہ کے کردار پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ناکامی آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جنگ شروع ہونے کا سبب بنی ہے اور بالکل اسی نوعیت کی جنگ اس خطے کو گھیرے میں لے سکتی ہے،چونکہ دنیا میں اب کوئی ایک سپر پاور نہیں رہی ،وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ تنازعات پر خاموشی توڑ دے اور تنازعات کے حل کے لئے اقدامات کرے۔

(جاری ہے)

اگر اقوام متحدہ کی جانب سے حل کی فراہمی ناکام رہی تو اس کی تقدیر لیگ آف نیشنس سے مختلف نہیں ہوگی اور لیگ آف نیشنز کی ناکامی ہی عالمی جنگ کا باعث بنی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے اصل مقصد کو بھول چکا ہے جس مقصد کے حصول کی خاطر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سیامن جی خاطر سب سے زیادہ جدوجہد ہوئی، ہمیں انسانیت کا مسیحا کہا گیا، پاکستان دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے دوران متعدد ممالک کے مابین کامیاب ڈائیلاگ کروتا رہا۔

انہوںنے کہاکہ اب اقوام متحدہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانیت کا اصل دشمن کون ہے،ایف اے ٹی ایف عالمی امن کو برقرار رکھنے میں پاکستان کی شراکت کو کیوں فراموش کر رہا ہے ، یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان کا امن کے لئے بھیجے گئے مشنوں میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 40 سالوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے ، وہ ان کے ساتھ اپنے شہریوں کا سا سلوک روا رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف ہندوستان اقلیتوں کو ان کی املاک اور زندگی کی حفاظت کی رشوت دیتے ہوئے گھر واپسی پروگرام کی شکل میں مسلمان ہندوستانی شہریوں کو غیر شہری قرار دیتے ہوئے مہاجروں کا ایک بہت بڑا بحران پیدا کرنے کی طرف گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک ہی بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والے تصادم کے ذمہ دار ہوں گے اور دونوں ریاستیں اسی تصادم کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو بھارتی افواج کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے ، راء اور مودی پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، فرقہ واریت کو ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قوم سے گزارش کی کہ وہ جب کشمیر کی بات کریں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کریں تو وہ مستقل ایمان کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان آنے والے سال میں یوم سیاہ کا طلوع نہیں دیکھے گا ، کشمیریوں کو بین الاقوامی اداروں سے انصاف ملے گا کیونکہ عمران خان اور ان کی ٹیم ہندوستان کی حکمرانی سے کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔