وزیراعظم عمران خان کی پشاور دھماکے کی شدید مذمت

وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل اکتوبر 11:00

وزیراعظم عمران خان کی پشاور دھماکے کی شدید مذمت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اکتوبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی مذمت کی ہے۔انہوں نے دھماکے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔قبل ازیں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نوا زنے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ پشاور مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقع ہے۔

بالخصوص بچوں کو ہونے والے نقصان نے انتہائی رنجیدہ کردیا ہے۔ جن ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں،انکے دکھ کا تصور اور ازالہ ممکن نہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ لواحقین کو صبر عطا فرمائے اور اس سانحے میں زخمی ہونے والوں کوصحت یابی عطا فرمائے۔آمین۔واضح رہے کہ آج صبح پشاور کی دیر کالونی میں مدرسے میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔

(جاری ہے)

دھماکے کے نتیجے میں 70 بچے زخمی ہیں۔متعدد بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔بچوں کے سر میں چوٹیں آئی ہیں۔مدرسے میں 100سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔جب کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں سیکیورٹی اداروں کے سربراہ شریک ہوں گے۔محمود خان کا کہنا ہے تمام معاملات کی نگرانی خود کر رہا ہوں۔تایا گیا ہے کہ بم ناکارہ بنانے والی ٹیم اور ریسکیو اہلکاروں کی بڑی تعداد مدرسے میں پہنچ گئی ، جب کہ علاقے کو فوری طور سیل کر دیا گیا ، زخمیوں کی زیادہ تعداد کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں زیادہ تر کے سروں میں چوٹیں آئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ نیکٹا کی طرف سے کوئٹہ اور پشاور میں دہشتگردی کا تھریٹ جاری کیا گیا تھا ،جس میں بتایا گیا کہ ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی بنائی جارہی ہے، سیاسی اور مذہبی اجتماعات کی سکیورٹی بڑھائی جائے ، ذرائع کے مطابق نیکٹا نے ملک بھر میں بالخصوصی کوئٹہ اور پشاور میں دہشتگردی کا تھریٹ جاری کیا تھا ، نیکٹا نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سیکرٹریز کو اقدامات سے آگاہ کیا ، بتایا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان کوئٹہ اور پشاور میں دہشتگرد حملوں کی تیاری کررہی ہے ، سیاسی اور مذہبی اجتماعات کی سکیورٹی بڑھائی جائے ، دہشتگرد منصوبے میں ہائی پروفائل سیاسی شخصیات کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی شامل ہے ، جہاں سیاسی شخصیت کو خود کش دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے ، نیکٹا نے آگاہ کیا کہ قمر دین کاریز سے برآمد مواد کوئٹہ اور پشاور میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں استعمال ہونا تھا۔