اسرائیل کا 65000فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا نیا منصوبہ تیار

اسرائیل کو تسلیم کرانا والے ٹھیکیدارو سنو،اسرائیل نے فلسطین کی جورڈن ویلی پر بھی قبضہ کر لیا ہے

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ نومبر 07:04

اسرائیل کا 65000فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا نیا منصوبہ تیار
یروشلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 نومبر2020ء) آج ہر طرف اسرائیل اسرائیل کی بازگشت سنائی دے رہی ہے مگر ان نقارخانوں میں فلسطین اور فلطینیوں کا نام کوئی بھی نہیں لے رہا۔دنیا کے ”وڈے تھانیدار“ امریکہ نے اسرائیل کو تسلیم کروانے کا جو ٹھیکہ اپنے سر لیا تھاآج اس کے ثمر سب کو نظر آ رہے ہیں کہ خفیہ پروازیں سعودی عرب کے نئے شہر تک اڑان بھر رہی ہیں اور کوئی ایک آدھ خفیہ پرواز اسرائیل سے پاکستان بھی اڑان بھر چکی ہے جس کا ”کٹا“کھلنا ابھی باقی ہے۔

مبینہ اطلاعات کے مطابق بلین ڈالر انویسٹ کیے جا رہے ہیں صحافیوں سمیت سیاستدانوں اور لبرلز کو خریدا جا رہا ہے۔عوام کی ذہن سازی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بحث شروع کرا دی گئی ہے اور یہاں بھی بھرتی کے ملازم دھڑا دھڑا چورن بیچنے پر لگے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

مگر اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کی بحث کے دوران اس بات سے منہ موڑ لیا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطین میں کیا کر رہاہے۔

گزشتہ دنوں اسرائیل نے یروشلم کی قریبی آبادی پر 1200نئے گھر بنانے کی کالونی کا ٹینڈر نوٹس دیا جہاں پر ظلم و ستم کی داستان ابھی جاری تھی کہ اب ایک اور متنازع علاقے جورڈن ویلی میں بھی اسرائیل نے اپنی کالونی بنانے کا اعلان کر دیااور وہاں قبضہ کر لیا ہے۔

نہتے فلسطینی اسرائیلی فورسز کے سامنے کشادہ سینہ لیے نوحہ کناں ہیں مگر اسرائیلی فورسز بربریت پر اتر آئی ہیں۔

آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ مظاہرین کو دبانے کے لیے مختلف حربے آزمائے جا رہے ہیں اور مظاہرین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ذرا عالمی دنیا س طرف بھی دھیان دے۔جہاں اسرائیل کو پہلے قبضہ شدہ علاقے چھوڑنے کے لیے پریشر ڈالنا ابھی باقی ہے وہ تو فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضہ کرتا چلاجا رہا ہے۔بھلا یہ لبرلز اور بکاﺅ لوگ اسرائیل کے فلسطینی زمین پر بستے گھروں کو اجاڑنے کے لیے بڑھتے قدموں کو روکنے سے متعلق بھی کبھی واعظ کریں گے یا پھر فلسطین کا نام و نشان مٹ جانے تک چپ سادھے رکھیں گے۔