جرمن فوج میں ہم جنس پسندوں کو تفریق پر زرتلافی

DW ڈی ڈبلیو جمعرات نومبر 20:20

جرمن فوج میں ہم جنس پسندوں کو تفریق پر زرتلافی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 نومبر 2020ء) فوج میں ہم جنس پسندوں کے حقوق کے تحفظ کے بیس برس بعد اب جرمن کابینہ نے ماضی ہم جن پسند فوجی مردوں اور خواتین کو امتیازی رویوں پر زرتلافی ادا کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

فوجیوں کو ہم جنس پرستی سے روکنے پر بھارتی آرمی چیف پر تنقید

خواجہ سراؤں کو امریکی فوج میں نہیں رکھا جائے گا، ٹرمپ

بدھ کے روز وفاقی جرمن کابینہ نے نئے ضوابط کی منظوری دی، جس کے تحت سن 2000 سے قبل جنسی امتیاز کا سامنا کرنے والے فوجیوں کو زرتلافی ادا کیا جائے گا۔

چانسلر میرکل کی کابینہ کی جانب سے اس منظوری سے دو ماہ قبل وزیر دفاع آنےگریٹ کرامپ کارن باؤر نے فوج میں دہائیوں تک رہنے والے اس جنسی امتیازی رویے پر باقاعدہ طور پر معذرت کی تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے ایک مطالعاتی دستاویز بھی جاری کی تھی، جس میں جرمن فوج میں سن 1955 تا 2000 ''منظم امتیازی رویوں‘ پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

وزیر دفاع نے جرمن میڈیا سے بات چیت میں کہا، ''ان لوگوں نے جو کچھ سہا ہم اسے تو تبدیل نہیں کر سکتے، مگر ہم اس سلسلے میں جہاں تک ممکن ہو ایک مثال ضرور قائم کرنا چاہیں گے۔

‘‘

اس نئی قانون سازی سے فوجی عدالتوں کے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے گا، جو رضامندی سے ہونے والے ہم جنس سیکس سے متعلق تھے۔ اس کے علاوہ ایسے ہر فیصلے پر تین ہزار یورو کا زرتلافی بھی ادا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ہم جنس سیکس پر فوجی عدالتوں کی جانب سے فوجیوں کی برطرفی، ترقی روکنے اور ذمہ داریاں واپس لینے جیسے فیصلے دیے گئے تھے۔ وزارت دفاع کے مطابق قریب ایک ہزار افراد اس قانون کے تحت زرتلافی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

ع ت، ع ا (ڈی پی اے، اے پی)