صدر آزاد کشمیر کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات ، بھارتی مظالم سے آگاہ کیا

مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندوں شہریوں کو مختلف علاقوں سے لا کر آباد کررہا ہے، سردار مسعود خان

جمعہ دسمبر 15:45

صدر آزاد کشمیر کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ اسلامی تعاون ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 دسمبر2020ء) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمودکے ہمراہ اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی اور جموں وکشمیر کے عوام کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو ستاون مسلم ممالک کی طرف سے متفقہ طور پر مسترد کرنے، متنازعہ ریاست میں غیر کشمیریوں کو آباد کر کے ریاست کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانے کی مذمت کرنے اور ان تمام غیر قانونی اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کرنے پر اسلامی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کا شکریہ اد اکیا ہے۔

وزارت خارجہ میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سفارتکاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ نائیجر میں منعقد ہونے والی اسلامی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں بھارت کی تمام تر ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے باوجود جموں وکشمیر کے مسئلے پر ایک موثر، جاندار اور جامع قرار داد کی منظوری جہاں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی فتح ہے وہاں جموں وکشمیر کے عوام کی جدوجہد کے لئے بھی ایک اہم پیشرفت ہے اور اس کامیابی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں پاکستان کی وزارت خارجہ کا کلیدی کردار ہے جس نے دن رات محنت کر کے اسلامی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں ہوا کا رخ بدل دیا۔

(جاری ہے)

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اُن کی قیادت میں کشمیری وفد کی اسلامی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں با معنی شرکت اور اجلاس سے خطاب کو یقینی بناکر اور مسئلہ کشمیر پر موثر قرار داد کو منظور کروا کرپاکستان نے بھارت کی منفی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم نے پہلی قرار داد 1990میں منظور کرائی تھی اور اُس وقت سے اب تک عالم اسلام کا یہ اہم ترین فورم تسلسل کے ساتھ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ پوری جرات اور استقلال کے ساتھ کھڑا ہے۔

عالم اسلام اور دنیا کے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کوجسد واحد قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مجبور اور محصور نوے لاکھ مسلمان جو آپ کے جسم کا حصہ ہیںاور وہ عالم اسلام اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرف مدد کے لئے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم سفارتکاروں کو بتایا کہ بھارتی حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر میںہندو شہریوں کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لا کر آباد کر رہی ہے تاکہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے ریاست کے عوام کی زمین اور وسائل پر قبضہ کر لیا جائے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کو اسلامو فوبیا اور اسلام مخالف سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ وہاں مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، تیرہ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں جیلوں اورنظر بندی کیمپوں میں اُن کے ذہن بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی تہذیبی روایات اور آزادی کے نظریہ سے دستبردار ہو جائیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سفیروں کی وزارت خارجہ آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے بانی رکن ہونے کے ناطے مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کو انتہائی اہم فورم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سینتالیسیویں اجلاس میں کشمیر سمیت جو مسائل زیر بحث آئے ان میں اسلامو فوبیا، فلسطین، افغانستان، روہنگیا اور نینگو رنو کارا باغ جیسے مسائل کے علاوہ مختلف ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ بطور اقلیت ناروا سلوک جیسے مسائل بھی شامل تھے۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی طرف سے مسئلہ کشمیر اور اسلامو فوبیا سمیت دیگر امور پر پاکستان کے نکتہ نظر کی حمایت اور تائید پر رکن ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مذمت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے اسلامی وزرائے خارجہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر پر ایک جامع اور موثر قرار داد منظور کرنے کے علاوہ اجلاس کے اعلامیہ میں بھی اسلامی تعاون تنظیم کے اصولی موقف کا اعادہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہے کہ پوری مسلم دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر یکساں تشویش ہے۔

وزرات خارجہ میں ہونے والی بریفنگ سے قبل اور بعد میں صدر آذادکشمیر نے مختلف مسلم ممالک کے سفیروں سے انفرادی بات چیت بھی کی اور انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔