رمضان میں قبلہ اول پر اسرائیلی حملہ انسانیت کی توہین ہے ، وزیر اعظم

فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت کے عزم اعادہ کرتے ہیں ، فلسطینیوں اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی برادری کو لازمی اقدامات اٹھانا چاہئیں۔ عمران خان کا ٹویٹ

Sajid Ali ساجد علی اتوار مئی 16:23

رمضان میں قبلہ اول پر اسرائیلی حملہ انسانیت کی توہین ہے ، وزیر اعظم
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 9 مئی 2021ء ) وزیر اعظم عمران خان نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر رمضان کے دوران اسرائیلی فورسز کے حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعطم عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قبلہ اول مسجد قصیٰ میں نمازیوں پر حملہ کیا گیا ، فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ توئٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ قبلہ اول میں فلسطینیوں پر رمضان کے دوران اسرائیلی فورسز کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، انسانیت کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی، ہم ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت کے عزم اعادہ کرتے ہیں ، فلسطینیوں اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی برادری کو لازمی اقدامات اٹھانا چاہئیں۔

(جاری ہے)

اس سے پہلے بھی پاکستان کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ، ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ میں معصوم نمازیوں پر حملہ کیا ، پاکستان اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ، رمضان المبارک کے دوران ایسا حملہ انسانی اقدار اور حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اپنے ایک بیان میں کہا گیا کہ پر تشدد واقعے میں زخمی فلسطینیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں ، آزاد فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے پاکستان فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا ، پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 2 ریاستوں کے حل کی ضرورت پر زور دیتا ہے ، عالمی برادری فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدام اٹھائے ، جب کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پوزیشن پر جانا ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ماہ رمضان کے جمعتہ الوداع کے موقع پر نماز کی ادائیگی کے لیے ہزاروں فلسطینی مسجد اقصیٰ پر جمع ہوئے اور مسجد کے باہر احاطے میں نماز ادا کی ، اس دوران اسرائیلی فوج نے روایتی جارحیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے نمازیوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں ، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کریکر پھینکے جس سے 200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے۔