جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف صدر، وزیراعظم کی دائر درخواستیں اعتراض لگا کر واپس

صدر مملکت، وزیراعظم ، وزیر قانون نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف نئی نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں، ایک کیس میں دو مرتبہ نظرثانی نہیں ہوسکتی۔ رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کا اعتراض

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 26 مئی 2021 17:39

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف صدر، وزیراعظم کی دائر درخواستیں اعتراض ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2021ء) رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر درخواستیں اعتراض لگا کر واپس کردی، رجسٹرارآفس نے اعتراض لگایا کہ ایک کیس میں دوبار نظر ثانی نہیں ہوسکتی، صدر مملکت، وزیراعظم ، وزیرقانون نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان، وزیرقانون فروغ نسیم، معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائرکی گئی تھیں۔

اسی طرح ایف بی آر کی جانب سے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف درخواست دائرکی گئی تھی۔ درخواستوں میں سپریم کورٹ کے تمام ججز پر مشتمل فل بنچ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی۔

(جاری ہے)

صدر عارف علوی کی جانب سے ازخود نوٹس دائرہ اختیار کے تحت آئینی درخواست دائر کی گئی تھی، 70 صفحات پر مشتمل درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو بھی فریق بنایا گیا، درخواست میں صدر پاکستان نے مؤقف اپنایا کہ نظر ثانی درخواست پر فیصلہ آنے کے بعد بھی ازخود نوٹس دائرہ اختیار پر سماعت کی جاسکتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ صرف صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ہی نہیں بلکہ وزیراعظم ، وزیر قانون ، مشیر داخلہ اور ایف بی آر کی جانب سے بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ واضح رہے اس سے قبل 26  اپریل 2021ء کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی  کیس میں دائر نظر ثانی درخواستوں پر مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں دائر نظر ثانی درخواستیں  چھ ،چار کے تناسب سے  منظور کی جاتی ہیں۔

عدالت عظمی نے فیصلے میں  قرار دیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی جائیدادوں سے متعلق ایف بی آر کو معاملہ بھیجنے کا  حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے، ایف بی آر کی رپورٹ اور کاروائی غیر قانونی قرار دی جاتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کوئی فورم جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کیخلاف کاروائی نہیں کرے گا، کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس منیب اختر،جسٹس قاضی امین ،جسٹس سجاد علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس امین الدین خان، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے نظر ثانی اپیلیں اکثریت سے  منظور کی ہیں ۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی انفرادی درخواست 5 ججز نے منظور جبکہ  5 نے خارج کی ہے ۔