مقبوضہ کشمیر، مسلمانوں کا سیاسی و انتظامی کردار ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے بھارت نے منصوبہ تیار کرلیا

جمعرات جون 18:04

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2021ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں مودی حکومت مقبوضہ علاقے کی سیاست سے مسلمانوںکاکردار ہمیشہ کیلئے ختم کرنے اورانتظامی معاملات میں ان کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے جموںوکشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوںمیں بعض اہم انتظامی تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سائوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مودی حکومت اپنے اس مذموم مقصد کے حصول کیلئے جموں و کشمیر اسمبلی میں ہندو اکثریتی جموں خطے کی نشستوں کی تعداد بڑھارہی ہے ۔

اس سلسلے میں طریق کار وضع کیا جا رہا ہے اور روں سال کے آخر میں اس سلسلے میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ حالیہ دونوں کے دوران مقبوضہ جموںو کشمیر میں مزیدکئی ہزار بھارتی فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے مختلف افواہوں، قیاس آرائیوں اور اندیشوں کا بازار گرم ہے۔

(جاری ہے)

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت ہزاروں مزید پیرا ملٹری فوجی دستوں کو وادی کشمیر بھیج چکی ہے جن میںسے بیشتر کوشمالی کشمیر میں تعینات کیاگیاہے۔

فوج کی نقل و حرکت میں تیز ی سے پورے مقبوضہ علاقے میں شدیدتشویش پائی جاتی ہے اورکشمیریوںکو خدشہ ہے کہ ایک بار پھر جموںوکشمیر میںکچھ بڑا ہونے والا ہے ۔جموں اور جنوبی کشمیر کو ملانے والی مغل شاہراہ کو بغیر کسی وجہ کے بند کردیا گیا ہے جبکہ لکھن پور سے ہزاروں کی تعداد میں غیر کشمیریوں کوجموںو کشمیر لایا گیا ہے۔ مقبوضہ علاقے کی سیاسی جماعتوں اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری ، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون ،ڈی جی پولیس اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے بھی اعلی سطح کی ملاقاتیں کی ہیں۔

جبکہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے ارکان کا ہنگامی اجلاس سرینگر سیکریٹریٹ سرینگر میں بلایا گیا تھا ۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ کشمیر کے مختلف علاقوں رام ہال، کرالپورہ، کیرن، ٹیکی پورہ، کرناہ، راجواڑ، ماوراور کپواڑہ کے علاقوں میں بھارتی فوج کی بارڈر سیکورٹی فورس اورانڈین تبت بارڈر پولیس کے نئے کیمپ قائم کئے جارہے ہیں ۔

کپواڑہ میں مختلف مقامات پر ملٹری کانوائے میں بڑی گاڑیوں کے علاوہ بو فورس توپیںراجواڑ کی طرف لے جاتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔مقامی صحافیوں کے مطابق مقبوضہ جموںوکشمیر میں گزشتہ دو روز سے 5اگست 2019سے چند دن قبل والی کیفیت ہے اور لوگوں میں فوجی نقل و حرکت سے زبردست بے چینی پائی جاتی ہے۔کشمیری صحافی ظہور حسین نے جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں کہا کہ وادی کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

تاہم انہوںنے کہاکہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کے پاس کھونے کو بچا بھی کیا ہے، اس لیے پہلے جیسا خوف نہیں ہے۔مقبوضہ علاقے میں یہ افواہ گرم ہے کہ مودی حکومت ایک بار پھر سے جموںوکشمیرکو تقسیم کرنے جا رہی ہے اور جموں خطے کو پھر سے ریاست کا درجہ دیا جائے گا جبکہ وادی کشمیر بھارت کے زیر انتظام برقرار رہے گی۔ دوسری افواہ یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کو جموں میں ضم کر کے ایک نئی ریاست جموں قائم کی جائے گی اور شمالی کشمیر کو لداخ میں ضم کر کے ریاست لداخ قائم کی جائے اور کشمیر کو ختم کر دیا جائے گا۔

ایک افواہ یہ بھی ہے کہ مودی حکومت کشمیری پنڈتوں کیلئے بھارت کے زیر انتظام ایک علیحدعلاقے کا اعلان کرنے والی ہے تاکہ وہاں کشمیری پنڈتوں کو بسایا جا سکے۔ کشمیری پنڈتوں کی ایک تنظیم پنن کشمیر کا مطالبہ رہا ہے کہ وہ کشمیر واپس آنا چاہتے ہیں تاہم انہیں الگ سے بسایا جائے اور وادی کشمیر کو بھارت زیر انتظام دو علیحدہ علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے۔