کپاس کی نئی فصل کی آمد میں اضافہ کی وجہ سے روئی کے بھائو میں فی من 600 تا 800 روپے کی نمایاں کمی

حکومت کی جانب سے تاحال تک کپاس کی پیداوار بڑھانے کے متعلق نمایاں کاوشوں کا فقدان نظر آرہا ہے، نسیم عثمان بجٹ میں Raw کاٹن اور Ginned کاٹن کی 10 فیصد سے GST بڑھا کر 15 فیصد کردی گئی۔ جنرز سراپا احتجاج ہڑتال پر جانے کا عندیہ

ہفتہ جون 20:14

کپاس کی نئی فصل کی آمد میں اضافہ کی وجہ سے روئی کے بھائو میں فی من 600 ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2021ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران کچھ ٹیکسٹائل ملوں نے محتاط خریداری جاری رکھی جس کے سبب روئی کے بھا ئومیں مجموعی طور پر مندی کہی جاسکتی ہے نئی فصل کی روئی کی آمد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مزید جننگ فیکٹریاں شروع ہوتی جا رہی ہے موصولہ اطلاعات کے مطابق فی الحال تقریبا نئی فصل کی 5000 گانٹھوں کی ڈیلیوری ہوچکی ہے اور روزانہ کام ہو رہا ہے پرانی روئی کے سودے بہت ہی کم آرہے ہیں اور اس کا ریٹ بھی نسبتاً اونچا ہے لیکن جو نئی پھٹی آرہی ہے اس کے بھائو میں پہلے کے مقابلے میں 600 تا 800 روپے کی مندی آچکی ہے جو 14000روپے فی من بکی تھی وہ روئی آج 13200 تا 13300 روپے تک فروخت ہورہی ہے اسی طرح پھٹی 6000 تا 6400 روپے تک کے اونچے ریٹ پر چلی گئی تھی وہ بھی 300 تا 400 روپے گھٹ کر 5800 تا 6000 روپے کے درمیان چل رہی ہے اسی طرح بنولہ جو بڑھ کر فی من 2300 تا 2500 روپے تک چلا گیا تھا وہ بھی گھٹ کر 2000 کے لگ بھگ چل رہا ہے گو کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں تیزی کا عنصر غالب رہا خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھا ئومیں اور بھارت کی روئی کے داموں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا کیوں کہ کراچی کاٹن ایکسچینج نئی فصل کی روئی کا اسپاٹ ریٹ بھی جاری نہیں کر رہا اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی پاکستان میں روئی کا سیزن پہلی جولائی سے شروع ہوتا ہے اور 30 جون تک ختم ہو جاتا ہے لہذا KCA اگلے مہینے یعنی پہلی جولائی سے نئی فصل کی روئی کا اسپاٹ ریٹ جاری کرے گا۔

(جاری ہے)

نئی فصل کی پیداوار کے متعلق مختلف آرائیں سامنے آ رہی ہے لیکن نجی شعبے کا خیال ہے کہ اگر موسمی حالات نے ساتھ دیا تو نئی فصل تقریبا 80 تا 85 لاکھ کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔فی الحال پنجاب میں پھٹی کی آمد بہت ہی قلیل مقدار میں ہے وہاں جو فیکٹرییاں چل رہی ہے وہ سندھ کی پھٹی سے چل رہی ہے ظاہر ہے سندھ سے پنجاب پھٹی کی رسد ہورہی ہے تو اس کے کرایہ میں بھی فی من 100 تا 150 روپے اضافہ ہوتا ہے۔

صوبہ سندھ میں پرانی روئی تقریبا ختم ہوچکی ہے لیکن پنجاب میں ابھی بھی 25 تا 30 ہزار گانٹھوں کا اسٹاک جنرز کے پاس موجود ہے جو جنرز اسے نیچے ریٹ میں بیچنے کیلئے تیار نہیں وہاں کا ریٹ 13500 تا 14000 روپے کے درمیان ہے لیکن کئی ملز اب نئی فصل کی کپاس میں دلچسپی لے رہے ہیں تو تقریبا 7 تا 8 ملیں ابھی فی الحال سندھ سے روئی خرید رہی ہے جس کا ریٹ پہلے بتایا گیا 13200 تا 13300 روپے ہیں اور خیال ہے کہ اس میں اور گراوٹ کی گنجائش نظر آرہی ہے اس طرح صوبہ پنجاب میں روئی کا بھا سندھ کی نئی فصل کی روئی کے مقابلے میں زیادہ ہے کیوں کہ وہاں پھٹی سندھ سے جاتی تو اس کا کرایہ بھی زیادہ لگتا ہے اور وہاں کی ملیں بھی اگر وہاں کا مال لیتی ہے تو ان کو کرایہ سندھ کے نسبت کم لگتا ہے اس وجہ سے پنجاب کی نئی فصل کی روئی کا ریٹ بھی نسبتا زیادہ ہوتا ہے۔

موجودہ بجٹ میں Raw کاٹن اور Ginned کاٹن کی 10 فیصد سے GST بڑھا کر 15 فیصد کردی گئی جنرز سراپا احتجاج ہڑتال پر جانے کا عندیہ دے رہے ہیں PCGA کے چیئرمین ڈاکٹر جیسومل نے بتایا کہ پیر کے روز GST کے اضافہ کے خلاف پریس کانفرنس منعقد کریں گے اور انکا کہنا ہے کہ اس طرح GST کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا گیا ہے تو جنرز مجبورا جننگ فیکٹریاں بند کردیں گے۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان ہے نیویارک کاٹن کا جولائی کا وعدہ بڑھ کر 87 امریکن سینٹ پر پہنچ گیا ہے اس کے علاوہ بھارت میں روئی کے بھا میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اس کی ایک وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ CCI کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کے پاس جو روئی کا اسٹاک پڑا ہوا تھا وہ تقریبا ختم ہوچکا ہے اب ملوں کو جنرز کے پاس پڑی ہوئی روئی خریدنی پڑھ رہی ہے بھارت کے کاٹن کے بروکرز سے بات ہوئی ہے وہ روئی کے بھا میں اضافہ کی وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ ٹیکسٹائل ملوں کو ابھی روئی کی ضرورت ہے وہ انچا ریٹ دے کر بھی روئی خرید رہے ہیں جس وجہ سے وہاں کی مارکیٹ انچے ریٹ پر ٹکی ہوئی ہے اگر دیکھا جائے تو Shankar-6 کوالٹی کے روئی کا ریٹ فی کینڈی 53 ہزار 300 روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ کے مطابق پچلے ہفتے کے نسبت 40 فیصد برآمد کم ہوئی ہے اس دفعہ بھی پاکستان 47 ہزار 100 گانٹھیں درآمد کرکے پہلے نمبر پر رہا اس کے باوجود وہاں کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں موسمی حالات اور ڈالر کے ریٹ میں کمی کے باوجود روئی کے بھا میں اضافہ کا رجحان ہے WASDE کی ماہانہ پیداواری رپورٹ بھی شائع ہوچکی ہے جس میں اس سال پیداوار کے نسبت اس کی ہپت زیادہ بتائی گئی ہے اسی طرح جو کلوزنگ اسٹاک ہے وہ بھی توقع کے بر خلاف کم ہے اس وجہ سے وہاں روئی کا بھا بڑھا ہوا ہے آئندہ بھی لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں کمی آنا مشکل ہے کیوں کہ گزشتہ سال Covid-19 کی وجہ سے ہپت کم تھی اس وجہ سے مارکیٹ گھٹ کر 62-72-75 امریکن سینٹ تک آگئی تھی اس وجہ سے ان کا ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوگیا تھا خصوصی طور پر پاکستان کی ٹیکسٹائل ملوں نے وہاں سے وافر مقدار میں کاٹن امپورٹ کی ہے لیکن اس سال خیال کیا جارہا ہے کہ وہاں ریٹ انچے ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ٹیکسٹائل ملز ابھی جو سودے کریں گے وہ سوچ سمجھ کر کریں گے اور جو ملیں ہزار دو ہزار ٹن کے سودے کرتے تھے وہ اب سمجھ کر احتیاط برتتے ہوئے انچے ریٹ پر کم سودے کریں گے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہیکہ آئندہ سال زرعی معیشت کا سال ہوگا پنجاب میں کپاس کی بوائی کا تقریبا 90 فیصد اور سندھ میں 80 فیصد ہدف حاصل کرلیا گیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کپاس کی صورتحال بہتر ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں پیداوار کہیں زیادہ ہوگی۔ رواں سال سے اب تک کی جانے والی بوائی کی بنیاد پر کپاس کی تقریبا 9 ملین گانٹھوں کی پیداوار متوقع ہے۔

کپاس کی فصل کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں گنا، مکئی اور گندم کی سب سے زیادہ پیداوار ہوئی، ملکی تاریخ میں گنے کی فصل دوسری بڑی پیداوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی معیشت میں 1100 ارب روپے منتقل ہوئے جس سے کسان کی آمدن میں تاریخی اضافہ ہوا ہے لائیو اسٹاک کی مد میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری لا رہے ہیں۔

ہم نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے قومی فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام کی زیرصدارت ایک اجلاس کے دوران روئی کا ایم ایس پی 5000 سے 5500 روپے کے درمیان طے کیا جائے ،" پاکستان کسان اتحاد (پی کے آئی)کے صدر خالد محمود کھوکر نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کپاس کے ایم ایس پی کو فی من 5 ہزار روپیہ سے کم مقرر کرتی ہے تو فصل کی پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے اس سے کپاس کے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا "کاشتکار 5000 روپے فی من سے کم روئی کا ایم ایس پی قبول نہیں کریں گے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس میٹنگ میں چیئرمین ٹریڈنگ کوآپریشن پاکستان (ٹی سی پی)، منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی)پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو)، اور کپاس کے کاشت کاروں نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران ، وزیر نے کہا کہ جلد ہی روئی کا ایم ایس پی متعارف کرایا جائے گا۔

فخر امام نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب روئی کے لئے کم سے کم سپورٹ کی قیمت مقرر جائے گی۔فخر امام نے کہا کہ کپاس کی امدادی قیمت کا وقت اس وقت شروع ہونا چاہئے تھا جب روئی کی بوائی کی گئی تھی لیکن اس وقت پودوں کی حفاظت کی جاسکتی ہے اور اس کو ترجیح دی جائے گی۔پی سی جی اے کے چیئرمین ڈاکٹر جیسومل نے بتایا ہے کہ صوبہ سندھ کے زیادہ کپاس پیدا کرنے والے علاقہ اور زیادہ جننگ فیکٹریاں رکھنے والے علاقہ ٹنڈو آدم میں ایک اچھا اور بڑا آفس ٹنڈو آدم میں کھولنے کا ارادہ ہے۔

علاوہ ازیں PCGA کے ممبران کی ڈھرکی کی ایک فیکٹری میں اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں اس علاقہ میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے چاول کی فصل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا گو کہ گزشتہ سال بھی ان علاقوں میں چاول کی فصل کے خلاف دفعہ 144 نافذ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے نسبتا کپاس کی فصل میں اضافہ دیکھا گیا تھا گزشتہ منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں کاشتکاروں اور کپاس کے اداروں کے صدور سے خصوصی ملاقات کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کاشتکاروں کو رعایت دی جائے گی اور تقریبا 200 ارب روپے اس کیلئے مختص کئے گئے ہیں دیگر فصلیں جیسے کہ گیہوں، چاول، گنا یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن کپاس کو نظر انداز کیا گیا تھا کہا گیا کہ ملک میں زرعی انقلاب بڑھتا نظر آرہا ہے چاول، گندم اور گنے کی فصل میں ماشااللہ برکت آرہی ہے لیکن روئی کی فصل تزلیلی کی طرف جارہی ہے اس کیلئے کوئی خصوصی رعایت کا عندیہ نہیں دیا گیا تھا جو افسوس ناک ہے حکومت کے دیگر زرعی اداروں کی طرح لگتا یہ ہے کہ وزیر اعظم بھی کپاس کی فصل کو بیچاری سمجھ رہے ہیں اس کے باوجود اس کیلئے کوئی مثبت لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا گو کہ باتیں تو بہت ہوتی رہی لیکن پھر بھی اس سال یا آئندہ جو فصل آرہی ہے وہ ایک بار پھر تزلیل کی طرف جارہی ہے اور کپاس کی فصل بڑھنے کے امکانات بہت ہی کم ہے۔