ٹیکس تنازعات پر یکطرفہ گرفتاری کے اختیارات سے ٹیکس نیٹ کم ہوگا،میاں زاہد حسین
درآمدی کنٹینرز میں شپر انوائس کی لازمی موجودگی ناقابل عمل ہے، کاروباری طبقہ کی حوصلہ افزائی ضروری ہے ،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس
بدھ 16 جون 2021 20:35
(جاری ہے)
کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 156 میں تازہ ترمیم جس کے ذریعے امپورٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ ان کے درآمدی کنٹینرز میں مال کے ہمراہ انوائس موجود ہونا لازمی ہے ورنہ ان پر جرمانے عائد کئے جائینگے اور رجسٹریشن معطل کی جا سکے گی غیر ضروری اور ناقابل عمل ہے۔
غیر رجسٹرڈ کاروباری طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ترغیبات اور الیکٹرونک ڈیٹا کا استعمال کیا جائے پوائنٹ آف سیل سسٹم اس کی اچھی مثال ہے بجلی و گیس کے بل اور پراپرٹی کے لین دین کا ریکارڈ بھی ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مراعات کے باوجود مجموعی سرمایہ کاری میں اضافہ کے بجائے معمولی کمی ہوئی ہے مگر اس سال صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔ برآمدات کے مقابلہ میں درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جو ایک طرف تو اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کا ثبوت ہے تو دوسری طرف اس سے تجارتی خسارہ بھی بڑھتا ہے جس کا واحد حل ایکسپورٹ میں اضافہ ہے، جس کے لیے بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی اور ان کی قیمتوں میں حریف ممالک کے ساتھ مسابقت ہے۔میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے امپورٹ بل بڑھ جائے گا تاہم اگر امریکہ نے ایران سے پابندیاں ہٹا لیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہو جائے گی جس کا امکان موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح کو 66 فیصد سے بڑھا کر 68 فیصد کر دیا گیا ہے جس سے غربت بڑھے گی۔ بجٹ میں امیر اور غریب طبقہ کی فلاح پر توجہ دی گئی ہے اور متوسط طبقہ کیلئے بلا سود کاروباری قرضے کی سکیم بنائی گئی ہے جس سے ذاتی کاروبار میں اضافہ کے امکانات ہیں جس سے مہنگائی بے روزگاری اور آمدنی میں کمی کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ بجٹ میں 610 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کیے جاتے رہیں گے۔ جس سے عوام پر بوجھ بڑھے گا۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ اکنامک سروے میں غربت اور بے روزگاری کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے اوراس دعوے پر یقین کرنا مشکل ہے کہ کرونا وبا کے دوران صرف بیس لاکھ افراد بے روزگار ہوئے اور اب ان میں سے اٹھارہ لاکھ دوبارہ برسر روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں۔مزید تجارتی خبریں
-
کارانداز پاکستان کا خواتین کی معاشی و ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک فورم، نئی شراکت داریوں اور منصوبوں کا اعلان
-
برائلر گوشت کی قیمت میں14روپے کلو اضافہ
-
ایس ای سی پی اور نیب کا غیر قانونی سرمایہ کاری سکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے تعاون پر اتفاق
-
ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کے لیے دفاتر کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ
-
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیسرے روز تیزی دیکھی گئی
-
برائلر گوشت کی قیمت میں15روپے کلو اضافہ
-
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رحجان، 100 انڈیکس 778.94 پوائنٹس کی کمی کے بعد 177692.92 پوائنٹس پر بند
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 10,400 روپے کمی ریکارڈ
-
پاکستان کی انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ
-
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ماچکے-ٹھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی منظوری
-
سٹیٹ بینک سمیت تمام بینک اورمالیاتی ادارے 9 اور 10 محرم کو بندرہیں گے
-
ایس ای سی پی نے ایل ایس ای کے دوسرے سپیک کے آئی پی او کی منظوری دے دی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.