مریم نواز نے آزاد کشمیر انتخابات کے حتمی نتائج سے قبل ن لیگ کی جیت کا دعویٰ کر دیا

ابھی تک جہاں سے بھی رزلٹ آ رہے ہیں، الحمد اللہ مسلم لیگ ن جیت رہی ہے،ہوشیار رہیں ،با خبر رہیں ،دھند اور اندھیرے پر نظر رکھیں، لیگی رہنما مریم نواز

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری اتوار 25 جولائی 2021 19:17

مریم نواز نے آزاد کشمیر انتخابات کے حتمی نتائج سے قبل ن لیگ کی جیت ..
مظفر آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 25جولائی 2021) ابھی تک جہاں سے بھی رزلٹ آ رہے ہیں، الحمد اللہ مسلم لیگ ن جیت رہی ہے،ہوشیار رہیں ،با خبر رہیں ،دھند اور اندھیرے پر نظر رکھیں، مریم نواز نے آزاد کشمیر انتخابات کے حتمی نتائج سے قبل ہی ن لیگ کی جیت کا دعویٰ کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں مریم نواز نے لکھا کہ ابھی‏تک جہاں سے نتائج آرہےہیں،ن لیگ جیت رہی ہے، ہوشیار رہیں ،باخبررہیں، دھند اور اندھیرے پر‏نظر رکھیں۔

آزادکشمیر میں انتخابی مہم چلانے والی مریم نواز بھی ٹوئٹر پر متحرک ہیں ۔ 
 دوسری جانب وفاقی وزیر مرادسعید نے ٹوئٹ کیا کہ آزاد کشمیر عوام کا شکریہ جنہوں نے انتخابی عمل میں ‏زبردست شرکت کی آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابی عمل میں بہترین پیغام دیا تحریک انصاف کے ‏کارکنان اور امیدواروں کا بھی شکریہ ، پی ٹی آئی کارکنوں نے مخالفین کے اوچھے ہتھکنڈوں کو ‏اگنور کیا اور پر امن رہے انشااللہ کشمیر کا فیصلہ عمران خان۔

(جاری ہے)

 
 معاون خصوصی ڈاکٹرشہباگل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی واضح اکثریت ‏سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی، اپنی شکست دیکھتے ہوئے دونوں جماعتیں بیہودہ ‏حرکتوں پر اترآئی ہیں، مریم صفدر کو دیکھاجائے تو وہ صبح سے کہہ رہی ہیں لڑ جاؤ کٹ جاؤ۔انہوں نے کہا کہ دو کارکنوں کےجاں بحق ہونےپر لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں یہ ہمارا اثاثہ ہیں، ‏کارکنوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شہبازگل نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے زیادہ تر نشستوں پر جرائم پیشہ عناصر کےامیدوار ہیں دونوں ‏جماعتیں مل کر انتخابی عمل میں افراتفری پھیلاناچاہتی ہیں، بدقسمتی سےیہ 2 خاندانی پارٹیاں ہیں ‏جو کسی اور کو سامنے نہیں دیکھنا چاہتیں نوازشریف کی ملاقات آزادکشمیر انتخابات کو متنازع ‏بنانے کی کوشش ہے مودی کی ایما پر ہی مسلم لیگ (ن) ایسے کام کررہی ہے۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر انتخابات میں پولنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے 45 حلقوں میں ووٹرز کی کل تعداد 32 لاکھ 28 ہزار 99 ہے ، جن کے لئے آزاد کشمیر اور پاکستان میں 6 ہزار 114 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ، پولنگ کے موقع پر آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، 40 ہزار پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج تعینات کی گئی جب کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے پریذائیڈنگ آفیسرز سمیت 250 افسران کو مجسٹریٹ کے برابر اختیارات دیئے گئے۔

نتخابات سے قبل گیلپ پاکستان کی جانب سے ایک سروے کروایا گیا جس میں آزاد کشمیر کی عوام سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی ، سروے کے دوران آزاد کشمیر کی عوام سے سوال کیا گیا کہ وہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں سے کس سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں؟ سروے کے دوران پاکستان تحریک انصاف واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ سروے نتائج کے مطابق آزاد کشمیر کے 44 فیصد عوام نے انتخابات کے دوران تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ عوام کی حمایت حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہیں جہاں 12 فیصد عوام ن لیگ اور صرف 9 فیصد لوگ پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے حامی ہیں ، یوں یہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر صرف 21 فیصد عوام کی حمایت حاصل کر سکیں تاہم پاکستان تحریک انصاف تنہا 44 فیصد حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔