شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ، عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو طلب کرلیا

عمران خان نے پانامالیکس پر چپ رہنے کیلئے رقم آفر کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، عمران خان کے الزام سے میری ساکھ متاثر ہوئی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ 22 ستمبر 2021 22:51

شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ، عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو طلب کرلیا
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2021ء) عمران خان نے پانامالیکس پر چپ رہنے کیلئے رقم آفر کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، عمران خان کے الزام سے میری ساکھ متاثر ہوئی، شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ، عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو طلب کرلیا- تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے خلاف شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے پر عدالت نے وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر کو عدالت طلب کرلیا۔

شہبازشریف نے ہتک عزت کے دعوے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان نے پانامالیکس پر چپ رہنے کے لیے رقم آفر کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، عمران خان کے الزام سے میری ساکھ متاثر ہوئی۔ لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نے عمران خان کے خلاف شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کی سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کردیا۔

(جاری ہے)

عدالتی حکم میں کہا گیا ہےکہ عمران خان کے وکلا نے کیس کے قابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست واپس لے لیں جب کہ عدالت نے شہباز شریف کی جانب سے دائر تمام متفرق درخواستیں بھی نمٹا دیں۔

عدالت نے کہا ہےکہ کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آئندہ چھوٹی تاریخیں دی جائیں گی جب کہ کارروائی کے لیے شہباز شریف اور عمران خان 6 اکتوبر کو وکلا کے ہمراہ پیش ہوں۔ عدالتی حکم کے مطابق کیس کی مزید کارروائی 6 اکتوبر کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے کا جواب جمع کروا دیا تھا۔

عمران خان نے شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔ عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف یا شہباز شریف کی طرف سے رقم کی آفر براہ راست نہیں آئی بلکہ کسی کے ذریعے آئی تھی، عمر فاروق نامی شخص نے بتایا کہ آفر ہے، اگر عمران خان پانامہ لیکس کی پیروی چھوڑ دیں تو وہ بھاری رقم دینے کو تیار ہیں۔

جواب میں کہا گیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے ماضی میں ایک آرمی چیف کو بی ایم ڈبلیو گاڑی دینے کی کوشش بھی کی، شہباز شریف کی ایک جج کے ساتھ آڈیو ٹیپ بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔ ہمت ہے تو شہباز شریف لندن میں مجھ پر ہتک عزت کا مقدمہ کریں، شہزاد اکبر وزیراعظم کی جانب سے کی گئی استدعا کےمطابق شہباز شریف پر الزامات ہتک عزت کے دعوے میں نہیں آتے، شہباز شریف نے قانون کے مطابق 60 دن میں کوئی خاص نوٹس نہیں بھیجا، شہباز شریف نے 8 مئی 2017 کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر صرف لیگل نوٹس بھیجا۔

ہتک عزت کے دائر دعوے کے جواب میں کہا گیاہے کہ شہباز شریف دو دہائیوں سے سیاسی مخالف ہے، شہباز شریف بدنام کرنے کے لیے خود کئی بیانات دے چکے ہیں۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رشوت کی آفر کے بارے میں جیسے بتایا گیا اسی طرح ہی بیان دیا گیا، شہباز شریف کی شہرت میرے بیان کے باعث نہیں کسی اور وجہ سے متاثر ہوئی ہوگی، شہباز شریف کی جانب سے دعویٰ جھوٹا، بے بنیاد اور حقائق کو مسخ کر کے دائر کیا گیا، شہباز شریف سیاسی معاملات کو عدالتوں میں گھسیٹنا چاہ رہے ہیں، شہباز شریف کی جانب سے دائر کیا گیا دعویٰ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ شہباز شریف کے دعوے کو جرمانے کے ساتھ خارج کیا جائے اور شہبازشریف سے وکیل کی فیس بھی وصول کی جائے۔