خیبر پختوانخواہ سے پنجاب تک ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہاہے،حکومت کی کوئی تیار نہیں‘ مسلم لیگ (ن)

لوگ مریضوںکیلئے گھروں سے چارپائیاں لا رہے ہیں،مریضوںکی تعداد اوراموات کے درست اعدادوشمار نہیں بتائے جارہے ڈینگی کیلئے ڈرپ کی شدید ترین کمی ہے ،میگا کٹس کی بھی قلت ہے،عظمیٰ بخاری،خواجہ عمران نذیر ،خواجہ سلمان رفیق کی پریس کانفرنس

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 14:16

خیبر پختوانخواہ سے پنجاب تک ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہاہے،حکومت ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ڈینگی کے پھیلائو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختوانخواہ سے پنجاب تک مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہاہے، بیڈز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے مریضوںکے لئے گھروں سے چارپائیاں لا رہے ہیں،حکومت ڈینگی کے مریضوںکی تعداد اوراموات کے بارے میں درست اعدادوشمار نہیں دے رہی ،ڈینگی کیلئے ڈرپ کی شدید ترین کمی ہوگئی ہے جبکہ میگا کٹس کی بھی قلت ہے ۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری ،لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر ، خواجہ سلمان رفیق نے ماڈل ٹائون سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے عوام امراض اور وبا ء سے نبرد آزما ہیں،حکومت عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو عوام کو صحت کی سہولیات دی جاتی ہیں،جب سے حکومت آئی ہے ادویات کی قیمتوںمیں 600فیصد تک اضافہ ہوا ، علاج اورادویات کی مفت سہولیات چھین لی گئیں،زکوة و خیرات جو حکومت کو دئیے گئے وہ بھی کھا گئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اربوں روپے ٹائیگر فورس کودئیے گئے لیکن عام آدمی کو سہولیات نہیں دی گئیں،بے یارو مددگار صوبہ ڈینگی وبا ء سے لڑ رہاہے،حکومت نے بینرز لگا دئیے ہیں کہ ڈینگی اور کورونا سے خود لڑنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف لاہور میںایک روز میں 373مریض رپورٹ ہوئے ،کسی ہسپتال میں کورونا وارڈ نہیں بنایا گیا ،ہماری حکومت نے ڈینگی کی ٹیسٹنگ 60سے 90روپے تک رکھی جبکہ آج حالات سب کے سامنے ہیں ،ڈینگی کے مریضوں کو کورونا وارڈ میں منتقل کیاجارہاہے، جنرل ہسپتال میں لوگ اپنے مریضوں کیلئے گھروں سے چارپائیاں لا رہے ہیں کیونکہ بیڈز میسر نہیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے کہا کہ ہم نے شہباز شریف کی قیادت میں 2011ء میںڈینگی وبا ء پر قابو پایا، ہمارے دور میں پنجاب میں ایک بھی موت نہیں ہوئی، لیکن آج ڈینگی وبا ء ملک بھر میں پھیل چکی ہے ،خیبر پختوانخواہ سے پنجاب تک مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہاہے، ابھی تک ڈاکٹرز کو ریفریشر کورسز نہیں کروائے گئے، حکومت ڈینگی کے مریضوں کی تعداد اموات کو جان بوجھ کرنہیں بتا رہی، ڈینگی ڈرپ کی شدید ترین کمی ہوگئی ہے ،میگا کٹس کی قلت ہے، سی بی سی پر ڈاکٹر کا نسخہ کی شرط عائد کر دی گئی ہے ،کیا مریض پہلے ہزار روپے کا نسخہ ڈاکٹر سے لے گا، اینڈرائیڈ موبائل کا سسٹم موجود ہے کیا عثمان بزدار نے ڈینگی وبا ء کو مانیٹر کیا، اسلام آباد شیخ رشید کی ذمہ داری ہے وہاں لوگ ڈینگی سے مرنا شروع ہو گئے ہیں ،اسلام آباد میں سٹاف ہی نہیں جو ڈینگی سے لڑے،وزیر اعظم کی ڈینگی پر کوئی توجہ نہیں ، خیبرپختوانخواہ ،اسلام آباد اور پنجاب میں بے پناہ مریض آ رہے ہیں۔