ترقی پذیر ممالک میں کاپی رائٹس قوانین اور ان کی خلاف ورزیاں

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 16 اکتوبر 2021 14:20

ترقی پذیر ممالک میں کاپی رائٹس قوانین اور ان کی خلاف ورزیاں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اکتوبر 2021ء) کاپی رائٹ ایکٹ دنیا کے تمام ممالک میں قابل عمل قانون تصور کیا جاتا ہے۔ مگر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ترقی پذیر ممالک میں کاپی رائٹس قوانین کی خلاف ورزی عام ہے۔ اس کی اہم وجہ ان قوانین کی اہمیت نہ جاننا ہے۔ کاپی رائٹس کے ٹرابیونلز میں اس قانون کی خلاف ورزی کی بہت کم درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔

اس کی وجہ کاپی رائٹ کو رجسٹر نہ کروانا ہے۔ وصول شدہ درخواستوں میں سب سے کم تعداد موسیقی کے حقوق محفوظ کرانے کے لیے جمع کروائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر معروف یا قارئین کا محدود حلقہ رکھنے والے لکھاریوں سے لے کر شہرت یافتہ لکھاری اور مشہور گائیک تک ان خلاف ورزیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں دانش مندانہ ملکیت کا قانون یعنی انٹیلیکچوئیل کاپی رائٹس آرڈینینس 1962ء موجود ہے۔

(جاری ہے)

اس آرڈیننس میں سیکشن 18 سے لے کر سیکشن 23 تک، مختلف کاموں کے حوالے سے کاپی رائٹ کی اصطلاحات بتائی گئی ہیں۔ جیسا کہ، کسی شائع شدہ ادبی، ڈرامائی، موسیقی یا فنی کام (تصویر کے علاوہ) کے کاپی رائٹ کی مدت اس کے خالق کی موت کے پچاس سال بعد تک مقرر کی گئی ہے۔ سنیماٹوگرافی، ریکارڈ اور تصویر کے معاملے میں، کام کی اشاعت کے سال (کیلنڈر سال) کے آغاز سے آئندہ پچاس سالوں تک مقرر کی گئی ہے۔

سن 2000 میں کی گئی ترمیم کے مطابق، آرٹیکل 24 - اے جو کہ فونگرام یعنی آڈیو ریکارڈنگ کے فنکاروں اور پروڈیوسرز کے حقوق سے متعلق ہے، پرفامر کے پاس 'فِکسڈ یا اَن فِکسڈ پرفارمنس‘ کو درست کرنے یا روکنے کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں وہ اس پرفارمنس کو براہ راست نشر بھی کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ پروڈیوسر اور آرٹسٹ کے پاس اس سیکشن کے تحت دیے گئے حقوق کی حد پچاس سال ہے۔

لیکن ان قوانین سے لاعلمی یا ان کے اطلاق سے متعلقہ لوگ اس قدر نابلد ہیں کہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا یوٹیوب چینل انہی خلاف ورزیوں کی وجہ سے سن 2020 میں بند کر دیا گیا تھا۔

اب آتے ہیں کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی سب سے اہم صنف کی جانب، جو علمی اور ادبی سرقہ ہے۔ اس کی روک تھام اور حوصلہ شکنی کے لیے ایسے مؤثر قوانین مرتب کیے گئے ہیں، جن کے تحت مصنفین اور ناشرین کے ''جملہ حقوق محفوظ‘‘ ہوتے ہیں۔

اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قانونی چارہ جوئی کے لیے ٹرائبیونلز موجود ہیں۔

تاہم انٹرنیٹ کے موجودہ دور میں ہر چیز جہاں آن لائن موجود ہے وہاں کتب، رسائل اور اخبارات بھی آن لائن میسر ہیں۔ دنیا بھر کی سائٹس اس تمام مواد کو بار بار شیئر کر کے کاپی رائٹس کے قوانین کو پامال کر رہی ہیں۔ آن لائن کتب کی سائٹس پر ناشر یا مصنف سے اجازت لیے بغیر ان کا شائع شدہ مواد اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے۔

اس مواد میں جو بھی دلچسپی رکھتا ہے وہ وہاں سے اس کو نہ صرف ڈاؤن لوڈ کر کے استفادہ کر سکتا ہے بلکہ اس کو پرنٹ کر کے کلی یا جزوی طور پر آگے فروخت بھی کر سکتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ ناشر کو اور مصنف کو معاشی طور پر نقصان بھی پہنچتا ہے۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک میں کاپی رائٹس قوانین کے حوالے سے صورت حال خاصی بہتر ہے، مگر ترقی پذیر ممالک کے مصنفین اور ناشر ان عناصر کے ہاتھوں نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

ایک اور صنف جس کی خلاف ورزیاں بہت عام ہیں وہ ہے موسیقی۔ پاکستان میں بنائے جانے والی موسیقی کے رائٹس کی خلاف ورزی اس کے ہمسایہ ملک کی جانب سے بہت عام سی بات ہے۔ بہت سے گانے ''کَور سانگ‘‘ کے طور پر ہر ماہ ریلیز کیے جاتے ہیں جن کے لیے اجازت لینا درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ البتہ عقدہ کھلنے پر یہ بعد میں بتائے جانے والے موسیقار کی ساکھ کو داؤ پر بھی لگا سکتا ہے جبکہ اصل حقوق رکھنے والوں کو پہلے ہی کافی زیادہ معاشی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔

تاہم اگر وہ قانونی چارہ جوئی کریں تو خلاف ورزی کرنے والا ساری عمر کی جمع پونجی سے محروم ہو سکتا ہے۔

موسیقی کی کیٹیگری میں رجسٹر ہونے والے گانےکے مالک چار سے پانچ افراد ہو سکتے ہیں جن میں اس کا شاعر، موسیقار، گلوکار، مِکسنگ اور میوزک کمپنی شامل ہیں۔ اور بعض اوقات یہ تمام افراد کسی ایک فرد کے حق میں دستبردار ہو کر تمام حقوق اس کے نام کر دیتے ہیں۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تخلیقی کام رجسٹر ہی بہت کم کروایا جاتا ہے۔ اس تخلیقی کام میں نہ صرف موسیقی شامل ہے بلکہ فلم، ڈراما، دستاویزی فلم، ناول، مصوری یا خطاطی سے منسلک کام، لوگو یا مونوگرام، ہر طرح کا آڈیو ویڈیو ورک وغیرہ بھی شامل ہیں۔

ایک عام غلط فہمی یہ بھی ہے کہ تیس فیصد کام بدلنے سے آپ کاپی رائٹ ایکٹ سے مبرا ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آٹھ سو الفاظ کا ایک مضمون ہے جس میں سے آپ ہر دس واں یا آٹھ واں لفظ بدل کر تیس فیصد کا کوٹہ پورا کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی جملے کی ساخت وہی رہتی ہے، جو کہ ''کافی حد تک یکساں ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ حقوق کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ لہٰذا تیس فیصد والا اصول درحقیقت کوئی اصول نہیں ہے۔