Live Updates

ہوسکتا ہے حالات ایسے ہوجائیں کہ ‘کاروان’ کے بغیر ہمارا مقصد حاصل ہوجائے، مولانا فضل الرحمٰن

مہنگائی کے خلاف پورے ملک کے صوبائی اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں 20 اکتوبر سے ریلیاں اور مظاہرے شروع ہو جائیں گے، سربراہ پی ڈٰی ایم

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری منگل 19 اکتوبر 2021 04:02

ہوسکتا ہے حالات ایسے ہوجائیں کہ ‘کاروان’ کے بغیر ہمارا مقصد حاصل ہوجائے، ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 19اکتوبر2021ء) پی ڈٰی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مہنگائی کے خلاف پورے ملک کے صوبائی اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں 20 اکتوبر سے ریلیاں اور مظاہرے شروع ہو جائیں گے، ہو سکتا ہے کہ حالات اس قدر گرم ہو جائیں کہ ہم جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ کاروان کے بغیر حاصل ہو جائے-اسلام آباد کے مسلم لیگ ہاؤس میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں میاں نواز شریف، شہباز شریف، اختر جان مینگل سمیت تمام قائدین اجلاس میں شریک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ کل ہنگامی پریس کانفرنس میں 20 اکتوبر سے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع کرنے کے حوالے سے جو اعلان کیا گیا تھا، اجلاس نے اس اعلان کی توثیق کی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے خلاف پورے ملک کے صوبائی اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں 20 اکتوبر سے ریلیاں اور مظاہرے شروع ہو جائیں گے اور تمام صوبائی قیادت کو یہ ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ آپس میں فوری طور پر رابطہ کر کے اپنے اجلاس کریں اور صوبائی سطح پر رابطہ کاروں کا تقرر کریں تاکہ ایک مضبوط اور مربوط نظام قائم کیا جائے اور نظم و ضبط کے ساتھ ملک میں مظاہروں کی نگرانی کی جا سکے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ پارٹی اجلاس میں نیب ترمیمی آرڈیننس کو مکمل طور پر مسترد کردیا گیا ہے اور نیب کا ادارہ ہی آمریت کی باقیات میں سے ہے اور یہ ہمیشہ مخالفین اور حزب اختلاف کے خلاف سیاسی انتقام کے طور پر استعمال ہوا ہے اور اس ادارے سے احتساب کی کوئی توقع نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے انتخابی اصلاحات کے لیے مجوزہ ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، یہ درحیققت کا آر ٹی ایس کا دوسرا نام ہے تاکہ بڑے تکنیکی وسائل سے دھاندلی کی جائے، ووٹ چوری کیے جائیں اور جو حکومت خود دھاندلی کے نتیجے میں آئی ہے اس کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک کو ایک آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے فارمولا یا قانون دے سکے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں افغانستان یا ایران سے منسلک سرحدیں بند کردی گئی ہیں جس سے سرحد پر رہنے والے عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، سرحدوں کو تجارت اور کاروبار کے لیے کھول دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں بار بار بلدیاتی انتخابات کی بات ہوتی ہے لیکن ہمارا مطالبہ عام انتخابات کا ہے، جب تک اس ملک میں شفاف عام انتخابات نہیں ہوتے اور جائز حکومتیں قائم نہیں ہوتیں، تو اس حکومت کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20 اکتوبر سے پاکستان ریلیوں اور مظاہروں کا آغاز ہو جائے گا اور کسی قیمت پر بھی مہنگائی کے اس پہاڑ سے کراہنے والی قوم کے لیے اب یہ برداشت کرنا ناممکن ہو گیا ہے اور اس تحریک کی پی ڈی ایم مکمل قیادت کرے گی اور عوام کے شانہ بشانہ رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی احتجاج کا شیڈول بنانا ہے، ریلیوں کا آغاز ہو جائے گا، مظاہرے ہوں گے، پہیہ جام ہڑتالیں ہوں گی اور لانگ مارچ تک معاملات جائیں گے، جیسے جیسے مرحلہ وار صورتحال آگے بڑھتی جائے گی ، اس کے لحاظ سے ہماری اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے ساتھ ساتھ سربراہی اجلاس ہوتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حالات اس قدر سرگرم ہو جائیں کہ ہم جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ کاروان کے بغیر حاصل ہو جائے۔

آئی ایس ایس سربراہ کے تقرر کے حوالے سے جاری کشمکش کے بارے میں سوال پر جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کسی سرکاری معاملات میں مداخلت نہیں کررہی اور صرف اور صرف ملک میں جمہوری اور آئینی نظام چاہتی ہے، ہماری توجہ اپنے مقصد پر مرکوز ہے اور ہم کسی دوسرے کے معاملات پر اپنی توانائیاں صرف نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو حکومت کے پاس ایسا کوئی تعویز نہیں کہ وہ قیمت کم کر سکیں اور عمران خان کے اپنے فارمولے کے مطابق وہی سب سے بڑے چور نظر آ رہے ہیں۔
Live مہنگائی کا طوفان سے متعلق تازہ ترین معلومات