شمیر دنیا کا سب بڑا جیل و نازی کیمپ بن چکا ہے، رحمان ملک

کشمیر کے بہادر شہیدوں کا خون رنگ لائے گا اور شکست بھارت کا مقدر ہے آج کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلا کر رہیں گے،یوم سیاہ کے موقع پر پیغام

بدھ 27 اکتوبر 2021 22:49

شمیر دنیا کا سب بڑا جیل و نازی کیمپ بن چکا ہے، رحمان ملک
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اکتوبر2021ء) سابق وزیرِداخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کشمیر کے یوم سیاہ پر مودی مظالم کی شدید مذمت کی ہے اور کشمیری بہن بھائیوں کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے اور آج کشمیر میں بھارتی کرفیو اور ظلم و بربریت کا 814 واں سیاہ ترین دن ہے۔

انھوں نے کہا کہ تاریخ کے لمبے ترین کرفیو سے مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب بڑا جیل و نازی کیمپ بن چکا ہے مگر افسوس کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور او آئی سی عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کشمیر کا یوم سیاہ ہم ہر سال مناتے ہیں کہ دنیا کی سامنے بھارتی مظالم کو اجاگر کرسکے لیکن مسلم اٴْمّہ کی بے حسی نے اس دن کو مزید سیاہ بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسلم اٴْمّہ نہ تو کشمیریوں کی مدد کر سکے اور نہ پاکستان کے بن سکے بلکہ ہندوستان کو گلے سے لگانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ آج کشمیری خون کے آنسو بہا رہے ہیں اور وادی کشمیر ماتم کدہ بن چکا ہے۔ سابق وزیرِداخلہ نے کہا کہ ہندوستان داعش کو نہ صرف پاکستان بلکہ آر ایس ایس کیساتھ ملکر کشمیریوں کی نسل کشی کروا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انکو خیرانگی ہے کہ ہندوستان کیخلاف انسانی حقوق کی بدترین پامالی، مسلم نسل کشی اور انسانیت کیخلاف گھناؤنی جرائم کے ٹھوس شواہد کے باوجود بھی حکومت پاکستان بھارت کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں کیوں نہیں جا رہا ہے، انھوں مطالبہ کیا ہے حکومت بھارت اور بھارتی وزیراعظم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کریں۔ انہوں نے کشمیریوں کے لئے دل میں درد رکھنے والوں سے اپیل کیا ہے کہ حکومت کو بھارت کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے پر مجبور کریں۔

رحمان ملک نے کہا کہ کشمیر کے بہادر شہیدوں کا خون رنگ لائے گا اور شکست بھارت کا مقدر ہے۔ انھوں نے کہا کہ آؤ آج کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلا کر رہیں گے۔ پاکستان مخالف حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف مسلسل پاکستان کیساتھ متعصبانہ اور امتیازی سلوک کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت پہلے کہہ چکا تھا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کیساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے اور کچھ ممالک کے اپنے مفاد کے حصول تک پاکستان کا نام گرے لسٹ میں جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا کہ میں نے 2018 میں پیشنگوئی دی تھی کہ ڈالر کی قیمت 180 روپے تک جائیگی اس لئے حکومت بروقت اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ کس بنیاد پر اتنی واضح اور حقائق پر مبنی پیشنگوئی دی تھی، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ایف اے ٹی ایف کی پاکستان مخالف پالیسیاں اور ہماری بزدلی ہے کیونکہ ہم مانگتے بھی ہیں اور ڈرتے بھی ہیں اور اپنی معاشی پالیسیوں کو دوسروں کے ہدایات پر وضع کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ملک کی معاشی مفادات ان لوگوں کے ہاتھوں دیتے ہیں جو ہماری پالیسیوں کو زہرالود کرکے پاکستان کو دیوالیہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جلد قوم کو ایف اے ٹی اے ایف کے امتیازی سلوک کے پیچھے کارفرما خیران کن حقائق کے بارے آگاہ کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ قوم کو بتاؤنگا کہ پاکستان اصل میں کن کن سازشوں کا شکار ہے کہ حکومت کے بلند و بالا دعوں کے باوجود اب تک ہم ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔