Live Updates

ہمارے علاقے ہمارے حوالے کردیں، آئی ایم ایف کے تمام قرضے اتار دیں گے

ایس آئی ایف سی 18ترمیم کی روح کے خلاف ہے، مذاکرات میں اسٹیبلشمنٹ کو اتنا کہنا چاہتے کہ اتنے سال گڑ بڑ کی اب پیچھے ہٹ جائیں۔ سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 13 جون 2024 22:16

ہمارے علاقے ہمارے حوالے کردیں، آئی ایم ایف کے تمام قرضے اتار دیں گے
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 جون 2024ء) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ایس آئی ایف سی 18ترمیم کی روح کے خلاف ہے، ہمارے علاقے ہمارے حوالے کردیں، آئی ایم ایف کے تمام قرضے اتار دیں گے، مذاکرات میں اسٹیبلشمنٹ کو اتنا کہنا چاہتے کہ اتنے سال گڑ بڑ کی اب پیچھے ہٹ جائیں۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ میرے بڑے گہرے برادرانہ سیاسی تعلقات رہے، جب وہ ایک سیٹ لے کر آئے تھے تب بھی تعلقات تھے، ملک بہت مشکل حالات میں ہے، ملک کو موجدہ بحرانوں سے نکالنے کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا، اب تک جو کچھ ہوا اس لئے ہوا کہ پارلیمان کو بننے ہی نہیں دیا گیا، ہم سب کو اپنے گناہ تسلیم کرنا ہوں گے، میاں نوازشریف ووٹ کو عزت دو کا کہتے تھے اس کا بھی یہی مطلب تھا، میں تین سال کہتا رہا کہ گول میز کانفرنس بلائیں جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز ہوں اور مل کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو کس طرح چلانا ہے اور کس طرح آگے لے کر بڑھنا ہے۔

(جاری ہے)

2006میں نوازشریف کو قائل کیا کہ پیپلزپارٹی سے رابطہ ضروری ہے، جس کے بعد سی اوڈی سائن ہوا ۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ملک میں جو تماشے ہوئے اس کا نتیجہ نکل چکا ہے۔
ملک سچ بولنے سے بچ سکتا ہے، ہمیں سچ کو تسلیم کرنا چاہیے اور بہادری کے ساتھ کہنا چاہیئے ، سچ یہ ہے کہ 2024کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات ہوئے۔

کسی کو عمران خان اچھا لگے یا برا، انتخابات پی ٹی آئی جیت چکی ہے، الیکشن کو کس طرح الٹایا گیا، یہ گناہ کبیرہ ہے، ہمت کے ساتھ کہنا چاہیئے کہ پی ٹی آئی انتخابات جیت چکی۔
شہبازشریف مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے ، یہی بات ہوئی ہوگی جو مولانا پریس کانفرنس میں کہی کہ جمہور کی حکمرانی ہو، آئین وپارلیمنٹ طاقتور ہو۔ مولانا فضل الرحمان نے بڑے نرم الفاظ میں کہا کہ وہ لوگ جو جدوجہد میں ہمارے ساتھ شامل تھے انہوں نے اس تالاب میں غوطہ لگا دیا ہے۔
Live پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق تازہ ترین معلومات