اقبال کا مرد مومن وہ ہے جو تدبر رکھتا ہے ،جرات بہادری کا دامن نہیں چھوڑتا ‘ سعد رفیق

آج مسلم حکمرانوں پر نظر ڈالیں تو اقبال کے مرد مومن والی صفات ان میں نہیں ہیں ‘ سینئر رہنما (ن) لیگ آج عالم اسلام بظاہر آزاد ہے مگر غلامی میں جکڑا ہوا ہے ‘ تقریب بیاد اقبال سے خطاب، دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا

جمعرات 24 اپریل 2025 23:05

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اپریل2025ء)پاکستا ن مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اقبال کا مردمومن بلندیوں پر پرواز کرتا ہے وہ پستی کا مسافر نہیں،آج ہم نظر ڈالیں تو اقبال کی فکر نظر نہیں آتی، انہوں نے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا ،انہوں نے کشمیر کا دورہ کیا اور انہوں نے مسائل کو اجاگر کیا ،ان کی شاعری میں فلسطین کا درد بھی نظر آتا ہے،اگلی قیادت نوجوانوں کی ہے جو فکر اقبال کو اپنائے گی۔

ان خیالات کا اظہارا نہوں نے الحمرا آرٹس کونسل میں تقریب بیاد اقبال سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر چودھری ، سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی ،ولید اقبال ،ذوالفقار احمد چیمہ ،ڈاکٹر عظمی زرین نازیہ نے بھی خطاب کیا ۔

(جاری ہے)

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں یہاں حکومت کا نمائندہ نہیں ہوں ،انقلاب شازش میں نہیں آے گا بلکہ وہ اقبال کا انقلاب ہو گا،ہمارا ملک سازش میں ہے ،ایسی جمہوریت کے ہم روادار نہیں ،جمہوریت کو یر غمال بنا لیا جائے بار بار ایسا ہو تو ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ ،ملک ٹوٹ گیا مگر ہم نے سبق نہیں سیکھا ،مجھے یہ یقین ہے اگلی قیادت نوجوانوں میں سے ہو گی۔

انہوںنے کہا کہ اگر اقبال کے نظریات کی بات کریں گے تو پھر تبدیلی آئے گی، ہم جتنا مرضی پردہ ڈال لیں سچ کو جھوٹ میں نہیں بدلا جاسکتا،جمہوریت میں لوگوں کو گنا جاتا ہے میں ٹولے کو نہیں مانتا، پچاس سال کے سیاسی سفر کے بعد جو اقبال سے شناسائی نہیں رکھتا وہ کیا کرے گا،افسوس یہاں کئی لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اقبال کون ہے،اگلی قیادت نوجوانوں کی ہے جو فکر اقبال کو اپنائے گی،اقبال کا مرد مومن وہ ہے جو تدبر رکھتا ہے ،جرات بہادری کا دامن نہیں چھوڑتا ،آج مسلم حکمرانوں پر نظر ڈالیں تو اقبال کے مرد مومن والی صفات ان میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری قرآن مجید کی مضموم تفسیر ہے ،آج عالم اسلام بظاہر آزاد ہے مگر غلامی میں جکڑا ہوا ہے ،انگریز چلا گیا ، کالا انگریز چھوڑ گیا ،وہ انگریز مارشل لا ء لگانے والے آرمی افسران، وفاداریاں بدلنے والے سیاستدان اور عہدوں سے چمٹے افسران کی صورت میں موجود ہے،پورا عالم اسلام، بادشاہت، فسطائیت ،آمریت، جھوٹی جمہوریت کا غلام ہے ،میں اس سرمایہ دارانہ جمہوریت کا حصہ رہنے کی وجہ سے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس جمہوریت سے کوئی فائدہ نہیں ،پچاس سال کے سیاسی سفر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سیاستدان میں اقبال شناسی نہیں ہے ،ان کو تو اقبال کی کتابوں کے نام نہیں معلوم ۔

ذوالفقا ر احمد چیمہ نے کہا کہ آج کی تقریب کے لیے بہت سے لوگوں کے نام زیر غور تھے مگر آج انتخاب ادیبوں کا کیا گیا،دنیا کے دانشور ہمیں احسان فراموش قوم کہتے ہیں ،اقبال نے اس خطے میں آنکھ کھولی اور یہاں اس خطے میں رہے جو کہ ایک فخر کی بات ہے ،دنیا میں انسانوں کو کسی شاعر نے اتنا انسپائر نہیں کیا جتنا اقبال نے کیا،اقبال کی شاعری نے دنیا کو حیران کر دیا ، ہمارے مسلمانوں بھائیوں کے ساتھ آج کیا ہو رہا آپ دیکھ رہے ہیں ،مجھے ایک مسلم ملک کے سفیر نے کہا کہ آج اگر اقبال ہوتے تو آج بات کچھ اور ہوتی ۔

ولید اقبال نے کہا کہ اقبال کے کالم اور شاعری میں محمد ﷺاور اسلام کا پیغام صاف نظر آتا ہے ، اقبال محمدﷺ کا نام سنتے ہی آبدیدہ ہو جاتے تھے ،اقبال کا پیغام جو مسلم امت کے لیے ہے وہ فلسفہ خودی ہے اور اسی پر انہوں نے زور دیا ۔اس موقع پر دیگر نے بھی خطاب کیا ۔