Live Updates

اندازہ ہے کہ جنگ ایل اوسی تک محدود رہے گی، لیکن اگر جنگ شروع ہوئی تو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا

ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پوری جارحیت سے مقابلہ کریں گے کیونکہ ہم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ہوگا، مودی اور نیتن یاہو میں کوئی فرق نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 5 مئی 2025 21:21

اندازہ ہے کہ جنگ ایل اوسی تک محدود رہے گی، لیکن اگر جنگ شروع ہوئی تو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی 2025ء) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مودی نے اگر کوئی غلطی کی تو ایسا جواب دیں گے جو تاریخ میں لکھا جائے گا، ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پوری جارحیت سے مقابلہ کریں گے، ہم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ہوگا، اندازے ہیں کہ جنگ ایل اوسی تک محدود رہے گی۔ انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے حملہ کیا تو ہمارا جواب اس سے بہت سخت ہوگا، نریندر مودی اس وقت ذاتی انا اور ووٹوں کی جنگ لڑ رہا ہے۔

ہمارے اندازے ہیں کہ جنگ ایل اوسی تک محدود رہے گی، جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ مودی اور نیتن یاہو میں کوئی فرق نہیں۔ مودی نے نیتن یاہو جیسے اقدامات کئے تو پاکستان ایسا جواب دے گا کہ تاریخ یاد رکھے گی، ہم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ہوگا، ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پوری جارحیت سے مقابلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے متعلقہ فورم کا استعمال کریں گے، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگ کے مترادف ہوگی، بھارت نے پانی روکنے کیلئے کوئی اسٹرکچر بنایا تو اسے تباہ کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہوں گی، ہمارے پاس بہادر فوج ہے ماضی میں قربانیاں دیں اور اب بھی قربانیاں دے رہی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگردی بھارت کی پراکسی وار ہے۔ ہماری سرحدوں کے دونوں اطراف دشمن موجود ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں یہ کرائے کے لوگ ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھارت کی پراکسیز ہیں، ماضی میں کہا جاتا تھا کہ ایوب خان نے پاکستان کا پانی بیچا ہے۔

میرے نزدیک ایوب خان پاکستان کیلئے کام نہیں کررہے تھے، ضیاء الحق، یحیٰ، مشرف اور ایوب خان کے فیصلوں سے ملک کو نقصان پہنچا۔ آج ہم ماضی کی غلطیوں کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ سے ہمارا کیا تعلق ہے؟ ہم نے امریکا کے دباؤ میں کئی مواقع گنوا دیئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کل قومی سلامتی بریفنگ میں شریک نہیں ہوئی اور وہ اپنا ذاتی مسئلہ لے کر بیٹھے ہیں۔

ہم تو تحریک انصاف کو بیٹھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم قومی مسئلے پر بیٹھنے کو تیار ہیں، لیکن پی ٹی آئی ہر چیز کو مشروط کررہی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے ابھی نندن کو چائے پلا کر راتوں رات واپس بھیج کر ظلم کیا۔ بھارت میں تقسیم ہے لیکن ہمارے ہاں تقسیم نہیں یہی ہماری خوش قسمتی ہے۔ پاکستان میں تقسیم نہ ہونے پر سیاستدانوں کا شکرگزار ہوں۔ 29 اور 30 اپریل کی رات بھارت کی جانب سے فضائی حملے کی اطلاعات تھیں۔ 
Live پہلگام حملہ سے متعلق تازہ ترین معلومات