بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے میں انٹرنیٹ کی بندش پر متعلقہ حکام کو طلب کرلیا

بدھ 13 اگست 2025 22:39

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2025ء)چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس روزی خان بڑیچ اورجسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیر محمد کا صوبے میں انٹرنیٹ سروسز کی بندش سے متعلق دائر ائینی درخواست بنام پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی و دیگر کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس روزی خان بڑیچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار ذاتی طور پر موجود ہے اور دوسری باتوں کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ چیئرمین، کنزیومر سول سوسائٹی آف بلوچستان ہے۔

آج کل موبائل کا استعمال کاروباری برادری، طلباء ، تعلیمی اداروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لیے رابطے کا بنیادی ذریعہ ہے، لیکن حکومت نے بغیر کوئی معقول جواز پیش کیے پورے صوبے میں موبائل نیٹ ورک/انٹرنیٹ سروسز کو معطل کر دیا ہے، جس سے بچوں کی تعلیم، کاروباری سرگرمیاں وغیرہ بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور اس طرح کی غیر معینہ مدت کے لیے معطلی اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کے آئین کی دفعات 9، 15، 18، 19 اور 25۔

(جاری ہے)

کے تحت بنیادی اور مالیاتی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ حکومت نے بین الاضلاعی/صوبائی بس سروس بھی معطل کی ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ دو رکنی بینچ کے معزز ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح اٹھائے گئے اعتراضات غور طلب ہیں اور جواب دہندگان کے ساتھ ساتھ ایڈووکیٹ جنرل، بلوچستان اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو آئندہ سماعت کی تاریخ سے پہلے اپنے متعلقہ پیرا واز تبصری/جواب داخل کرنے کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ ناکامی کی صورت میں، سیکریٹری، وزارت داخلہ، اور سیکریٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیلی کمیونیکیشن، حکومت پاکستان 15 اگست 2025 اگلی تاریخ سماعت کو ذاتی طور پر پیش ہوں۔