بیرسٹرسلطان کے بیٹے چودھری سعود سلطان کی محسن نقوی سے ملاقات، اپنی لکھی کتاب تحفتاً پیش کی

جمعرات 28 اگست 2025 18:37

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے فرزند اور نوجوان کشمیری مصنف چوہدری سعود سلطان کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ۔ اس موقع پر چوہدری سعود سلطان نے اپنی لکھی ہوئی کتاب وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کی۔اس موقع پر چوہدری سعود سلطان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو اپنی لکھی ہوئی کتاب کے حوالے سے تفصیلاً بریف کیا ۔

اس موقع پر چوہدری سعود سلطان نے اس کتاب کی اہمیت افادیت اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس کے اثرات کتاب کے مختلف ابواب پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ Jammu and Kashmir The Forgotten Narrative جموں و کشمیر کا بھولا ہوا بیانیہ ایک تحقیقی کتاب ہے جسے لکھنے میں دو سال کا عرصہ لگا یہ کتاب بین الاقوامی معیار کی ہے جو عالمی ضمیر جھنجھوڑنے کیلئے قلمبند کی گئی ہے اس کتاب میں کشمیر کاز کا وہ بیانیہ پیش کیا گیا ہے جو برسوں سے عالمی فورموں پر مسخ اور نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اب میری اس کتاب کی شکل میں کشمیر کاز کا اصلی اور حقیقی بیانیہ تحریری صورت میں دنیا کے سامنے آ گیا ہے جس سے عالمی برادری کو کشمیر کے اصلی بیانیہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی میری کتاب کے کل گیارہ ابواب ہیں اور 250 صفحات ہیں یہ کتاب اس لیے بھی اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے کہ اس میں 50 صفحات صرف حوالہ جات کے لیے ہیں میں نے اس کتاب میں جو بیانیہ پیش کیا اسے دلائل اور حقائق کی روشنی میں بیان کیا اس کی سپورٹ میں کتاب میں ریفرنس دئیے تاکہ قارئین کو ہر بات کی حقیقت سمجھ آ سکے میں نے کتاب کے آغاز کے چند ابواب میں اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے 1947 میں پیش کردہ موقف کو دلائل حوالہ جات اور تاریخی تناظر میں پرکھ کر غلط ثابت کیا ہے اسی طرح کتاب کے آخری ابواب میں میں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں عوام کو حاصل آزادی کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے اس سلسلہ میں آذاد کشمیر میں موجود مہاجرین سے میں نے انٹرویو کیے اور دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کر کے میں نے ثابت کیا ہے کہ ہمیں آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کی نسبت زیادہ آزادی حاصل ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آزادجموں وکشمیر کے فرزند چوہدری سعود سلطان کی اس کاوش کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی اس تصنیف سے لوگوں کو جہاں تحریک آزادی کشمیر سے آگاہی حاصل ہو گی وہاں پر انہیںمسئلہ کشمیر پر مستند اور موثر معلومات میسر ہونگی۔