Live Updates

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاص

جمعہ 29 اگست 2025 21:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن (این ایچ ایس آر اینڈ سی) کا اجلاس ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریگولیٹری باڈیز، طبی اداروں اور وزارت صحت کے اہم سٹیک ہولڈرز کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر بروقت عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ۔

ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی ریگولیشن اور نگرانی پر توجہ مرکوز کی گئی ،کمیٹی نے ایم این اے ڈاکٹر امجد علی خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا۔ ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بڑے پیمانے پر لائسنسنگ کی شرائط پر عمل نہ کرنے، فضلے کے انتظام کے نامناسب طریقوں اور اسلام آباد کے نجی ہسپتالوں کے آپریشنز میں شفافیت کے فقدان کا انکشاف ہوا۔

(جاری ہے)

متعدد نجی ہیلتھ کیئر مراکز کو درست لائسنس کے بغیر کام کرتے ہوئے پایا گیا اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ آئی ایچ آر اے بورڈ کے کچھ ممبران نجی سیٹ اپ کے مالک تھے۔ کمیٹی نے وزارت این ایچ ایس آر اینڈ سی کو اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر اے) کو مضبوط بنانے، تمام عدم تعمیل کرنے والے ہسپتالوں کو فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کرنے اور لائسنسنگ اور مانیٹرنگ کے لئے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی۔

وزارت صحت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ جائزہ لینے اور باضابطہ طور پر اپنانے کے لئے اگلے اجلاس میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔اجلاس میں کینسر کے مریضوں کے لئے ہنگامی ادویات کی عدم دستیابی ، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وزارت کی تیز تر کوآرڈینیشن اور آئی سی ٹی میں بنیادی صحت یونٹس (بی ایچ یو) اور دیہی صحت مراکز (آر ایچ سی) کی کارکردگی بھی شامل تھا۔

کمیٹی نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ٹرینیز بالخصوص اسراء یونیورسٹی جیسے اداروں میں ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس پروگراموں میں داخلہ لینے والوں کے ساتھ سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت کی واضح پالیسیوں کے باوجود بہت سے زیر تربیت افراد وظیفے کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اعزازی تربیت کی اجازت نہیں دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ تمام زیر تربیت افراد کو وفاقی اور صوبائی معیار کے مطابق وظیفہ دیا جائے۔

اسراء یونیورسٹی کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تمام زیر تربیت افراد کو وظیفہ کی ادائیگی کے لئے لکھ کر دے اور گزشتہ تین ماہ کے لئے وظیفہ کی تقسیم کا ریکارڈ فراہم کرے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) نے کمیٹی کے موقف کی حمایت کی اور تمام تربیتی اداروں میں تعمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے متنبہ کیا کہ تعمیل میں ناکامی کے نتیجے میں ادارہ کی رجسٹریشن کی معطلی سمیت ریگولیٹری نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پی ایم ڈی سی کے متعدد ملازمین جن کے کنٹریکٹ 13 جون 2023ء کو ختم ہوگئے تھے، انہیں ملازمت کی حیثیت کے بارے میں وضاحت نہیں ملی تھی۔ وزارت این ایچ ایس آر اینڈ سی کو ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے اور اگلے ہفتہ تک تعمیلی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی کہ وہ طریقہ کار کے غلط استعمال سے متعلق انکوائری رپورٹ پیش کرے اور ایف آئی اے کی جانب سے ملازمین کو کلیئر کیے جانے والے کیسز میں میرٹ کی بنیاد پر ترقیوں کو یقینی بنائے۔

مزید برآں کمیٹی نے کرغزستان سے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کا دیرینہ مسئلہ اٹھایا اور پی ایم ڈی سی سے سفارش کی کہ ان طلباء کو این آر ای میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ وزارت این ایچ ایس آر اینڈ سی اور پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین دن کے اندر مکمل رپورٹ پیش کریں جس میں 2020 سے اب تک تسلیم شدہ تمام غیر ملکی اداروں کی تفصیلات شامل ہوں۔

قانونی وضاحتوں اور طالب علموں کے اعداد و شمار کے ساتھ موجود ہے۔ کمیٹی نے متنبہ کیا کہ ان ہدایات پر عمل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں وزارت کو مستقبل کے اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا جائے گا۔کمیٹی نے مختلف ریگولیٹری اداروں اور اداروں کی جانب سے مسلسل عدم تعمیل اور غیر فعالیت پر گہری تشویش کا اعادہ کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات پر حرف بہ حرف عمل درآمد کیا جائے۔

اجلاس کا اختتام کمیٹی کی جانب سے طبی پیشہ سے وابستہ افراد کے حقوق کی پاسداری، مریضوں کے تحفظ اور پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام قانون سازی کے ایجنڈے کو اگلے اجلاس تک ملتوی کردیا جس میں ایم این اے سید رفیع اللہ کی جانب سے پیش کردہ سوال نمبر 20، 23 اور 49، پاکستان نرسنگ کونسل (ترمیمی) بل 2024 (سید رفیع اللہ، ایم این اے کی جانب سے پیش کیا گیا) اور فارمیسی (ترمیمی) بل 2024 (ایم این اے عبدالقادر پٹیل کی جانب سے پیش کیا گیا) شامل ہیں۔

اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، سبین غوری، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر شائستہ خان، ڈاکٹر نخت شکیل خان، ڈاکٹر درشن، عالیہ کامران، فرخ خان اور راجہ خرم شہزاد نواز نے ذاتی حیثیت میں شرکت کی جبکہ رکن قومی اسمبلی شبیر علی قریشی نے زوم کے ذریعہ شرکت کی۔ این ایچ ایس آر اینڈ سی اور اس سے منسلک محکموں بشمول سی پی ایس پی کے دیگر سینئر افسران اور پمز، پی ایم ڈی سی اور آئی ایچ آر اے کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات