
پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، وزیرخزانہ
یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، کان کنی کے شعبے خصوصاً ریکو ڈک پراجیکٹ میں شاندار مواقع موجود ہیں، ، ٹیرف اصلاحات اور ڈیجیٹل و ایکسپورٹ پروموشن پالیسیز حکومت کے آئندہ اصلاحاتی ایجنڈے کی عکاس ہیں، سینیٹرمحمداورنگزیب کی یو اے ای کے ممتازسرمایہ کاروں اور تاجروں کے وفد سے گفتگو
جمعہ 29 اگست 2025 19:40
(جاری ہے)
وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ان کے پاکستان کے دورے کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ حکومت اہلکاروں، نجی شعبے کے نمائندوں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں نے ملک میں سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کی ہوگی۔
وزیر خزانہ نے وفد کو پاکستان کی معیشت اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کی جانے والی وسیع پیمانے پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت کا تسلسل برقرار ہے، کئی برسوں کے بعد حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن فاضل ہوگیا، افراط زرسنگل ڈیجیٹ ہے، ملکی کرنسی اورزرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہے، بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے جس سے ملکی معیشت پربیرونی اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے۔انہوں نے برآمدات اور ترسیلات زر کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تجارت اورسرمایہ کاری کی سرگرمیاں اورتیزی بے مثال ہے، 70 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کاروں کی شمولیت نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔وزیرخزانہ نے سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا اور کہا کہ ٹیکس اصلاحات، ٹیرف میں کمی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور دیگر جر?ت مندانہ ڈھانچہ جاتی اقدامات معیشت کی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کان کنی کے شعبے، خصوصاً ریکو ڈک پراجیکٹ میں شاندار مواقع موجود ہیں، جو پائیدار غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے بیرونی شعبے کو مضبوط کرے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جلد سامنے آنے والی نئی صنعتی پالیسی کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ٹیرف اصلاحات اور ڈیجیٹل و ایکسپورٹ پروموشن پالیسیز حکومت کے آئندہ اصلاحاتی ایجنڈے کی عکاس ہیں۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ٹیکس نیٹ کو مینوفیکچرنگ اور تنخواہ دار طبقے سے آگے بڑھا کر خدمات، ہول سیل، ریٹیل اور زرعی شعبے تک پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ کاروبار کے لیے توانائی اور فنانسنگ لاگت کم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے نجکاری کے جاری عمل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں پی آئی اے اور دیگر ریاستی اثاثوں کی بڑی ڈیلز آگے بڑھائی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پہلی بار پانڈا بانڈ کے اجرائ کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ مستقبل میں یورو اور امریکی ڈالر بانڈز کے اجرا بھی منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ ذخائر مزید مستحکم کیے جا سکیں۔ ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی لحاظ سے موزوں منصوبے ناگزیر ہیں اور اس مقصد کے لیے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں سے مالی معاونت دستیاب ہے لیکن اس کیلئے قابلِ سرمایہ کاری اور بینک ایبل منصوبے ضروری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی نمو میں ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کار خصوصاً متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کار، مقامی کاروبار کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کی سرمایہ کاری میں بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔یو اے ای کے وفد نے بھی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا اور پاکستان میں پرتپاک استقبال اور مثبت و تعمیری ملاقاتوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت کے مثبت رجحان، ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت اور کلیدی شعبوں کی لچک کو سراہا۔ وفد نے پاکستان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ، نوجوان آبادی کے فوائد اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف سرمایہ ہی نہیں بلکہ سٹریٹجک مہارت بھی ساتھ لائے ہیں اور پاکستان میں اصلاحات کے سفر میں سب سے آگے رہنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرمایہ اور افرادی قوت کے بڑھتے ہوئے تبادلے سے معاشی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے ذریعے ایک ساتھ ترقی کریں گے۔ وزیر خزانہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ اس ملاقات سے پیدا ہونے والی مثبت رفتار جلد ٹھوس سرمایہ کاریوں اور مشترکہ منصوبوں میں ڈھلے گی، جس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔مزید قومی خبریں
-
بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث پانی تیزی سے قصور کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے محفوظ رکھنے کے لیے موجودہ بند میں حفاظتی شگاف ڈالنا ناگزیر ہوگیا۔ عرفان علی کاٹھیا
-
دریائےستلج میں گنڈا سنگھ والا میں سیلاب گزشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
-
صوبہ پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری
-
وزیراعظم اورایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ،سیلاب پر پاکستانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار
-
پاکستان کی کرپٹو سفارت کاری نے عالمی سطح پر مضبوط مقام حاصل کر لیا
-
پنجاب کے سیلابی علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن بھرپورانداز میں جاری
-
ایف آئی اے کا غیر قانونی کرنسی نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن، کروڑوں روپے مالیت کی کرنسی برآمد
-
رحیم یارخان ، گھریلوکام کاج نہ کرنے پروالدہ کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ 20 سالہ بیٹی نے زہریلی گولیاں کھا کرخود کشی کرلی
-
قومی اسمبلی کا اجلاس یکم ستمبر کو طلب، صدرمملکت نے منظوری دے دی
-
لاہور میں مضر صحت کھانا کھانے سے 5 افراد بے ہوش
-
سندر: شوہر نے سابقہ بیوی کو قتل کرکے خودکشی کر لی
-
ماہ ربیع الاوّل شایانِ شان طریقے سے منایا جائے گا‘ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.