Live Updates

سینیٹر اسد قاسم کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان ،ریاستوں و سرحدی علاقہ جات کا اجلاس

جمعہ 29 اگست 2025 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان ،ریاستوں و سرحدی علاقہ جات کا اجلاس جمعہ کو سینیٹر اسد قاسم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی نے گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری کی عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ موثر اور با معنی پارلیمانی فیصلہ سازی کو یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ عہدیداروں کی شرکت بہت ضروری ہے۔

کمیٹی نے گلگت بلتستان سے متعلق ایجنڈے کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا اور ہدایت کی کہ مستقبل کے اجلاسوں میں گلگت بلتستان کے سینئر افسران کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی کو آزاد جموں و کشمیر میں مون سون کی وجہ سے ہونے والے نقصانات، امدادی کارروائیوں اور سیاحت سے متعلق چیلنجوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

(جاری ہے)

ایس ڈی ایم اے آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ 26 جون سے شروع ہونے والی بارشوں اور ان آفات کے نتیجے میں 28 جانیں ضائع ہوئیں، 2,100 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا اور عوامی انفراسٹرکچر بشمول سڑکوں، پانی کی فراہمی کے نظام، سکولوں اور بجلی کے نیٹ ورک کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔

کمیٹی کے چیئرمین نے اعداد و شمار کی درستگی کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ نامکمل سروے اور کم رپورٹنگ عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ کمیٹی نے این ڈی ایم اے کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی اطلاعات پر عمل کرنے میں تیاری اور ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین اسد قاسم نے کہا کہ الرٹس کے باوجود سیاحوں کو کمزور علاقوں میں داخل ہونے پر پابندی نہیں لگائی گئی جو کہ مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین نے ابتدائی انتباہی نظام کی کمی کا ذکر کیا جو ان علاقوں کے لئے اشد ضروری ہے ۔ انہوں نے اے جے کے میں 100 کلومیٹر کے وقفوں پر ابتدائی وارننگ سسٹم لگانے کا مشورہ دیا۔ مالی معاملات پر چیئرمین نے ریلیف فنڈز کی مد میں ای سی سی کی طرف سے فراہم کردہ 3 ارب روپئے کی شفافیت کے خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کے مناسب استعمال کو یقینی بنانے کے لئے پارلیمنٹیرینز، عدلیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک ایڈہاک نگرانی کا طریقہ کار ہونا چاہئے ۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ یونیورسل سروسز فنڈ کوریج کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا جائے خاص طور پر سیاحتی علاقوں میں، جیسا کہ قانون کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کو کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین (سی سی اے آر ) کے کردار اور دائرہ کار پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سی سی اے آر کے چیف کمشنر نے کمیٹی کو افغان مہاجرین کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومتی فیصلے کے مطابق رضاکارانہ وطن واپسی کی آخری تاریخ ختم ہونے کے بعد افغان پناہ گزینوں کی حیثیت "ایلینز" میں تبدیل ہو گئی ہے۔

یہ نوٹ کیا گیا کہ اکتوبر 2023 میں، حکومت پاکستان نے "غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے" کا اعلان کیا جس کے تحت حکومت کی طرف سے تمام غیر دستاویزی تارکین وطن کو تین مرحلوں کے تحت ملک چھوڑنے کے لئے کہا گیا۔ پہلا مرحلہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا جس میں تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی یا ملک بدری کا حکم دیا گیا ۔ دوسرا مرحلہ یکم اپریل 2025 کو غیر قانونی غیر ملکیوں کو اے سی سی ہولڈرز کے ساتھ ملک بدر کرنے کے لئے شروع ہوا۔

تب سے اب تک تقریباً 48,000 اے سی سی ہولڈرز کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ تیسرا مرحلہ یکم ستمبر 2025 سے لاگو کیا جائے گا تاکہ رجسٹریشن کا ثبوت (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جا سکے۔ چیئرمین نے ڈونر فنڈز کے استعمال ،شفافیت اور احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے 54 پناہ گزین کیمپوں اور اس سے منسلک زمینی اثاثوں کی ملکیت کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔

آخر میں کمیٹی نے ایک نظر ثانی شدہ اور مربوط پناہ گزینوں کی پالیسی پر زور دیا جو قومی سلامتی کی ضروریات کے ساتھ انسانی ذمہ داریوں کو متوازن کرے۔ چیئرمین اسد قاسم نے متعلقہ حکام سے کہا کہ آپ کو اعداد و شمار معلوم ہیں، آپ کو موصول ہونے والے فنڈز کا علم ہے، اب ہمیں احتساب، بین الوزارتی تعاون اور آگے کے راستے کی وضاحت کو یقینی بنانا ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر جامع بحث کے لئے آئندہ اجلاس میں چیف سیکرٹری اور تمام متعلقہ صوبائی حکام کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں سینیٹرز فیصل سلیم رحمان، عطاء الحق، ندیم احمد بھٹو، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات