سپر ٹیکس سرمایہ کاروں کیلئے سزا کے طور پر لاگو کیا گیا، عزیز نشتر ایڈووکیٹ

حکومت کو فوری ضرورت پڑی تو اس نے سپر ٹیکس لگا دیا ہے، جسٹس امین الدین کے ریمارکس

جمعرات 16 اکتوبر 2025 22:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2025ء) سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرمایہ کاروں کیلئے سزا کے طور پر لاگو کیا گیا ہے۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیس پر سماعت کی جس میں مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپر ٹیکس میں مقررہ رقم لکھی ہوئی کہ کتنے پر ٹیکس لگے گا ۔ کمپنیز اپنے اپنے حصے کا ٹیکس دیں گی جو ان پر بنتا ہوگا ۔ آپ جو کہہ رہے اس سے یہ لگ رہا کہ جن پر ٹیکس نہیں لگایا گیا ان پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے ۔وکیل فروغ نسیم نے جواب دیا کہ شاید میں اپنے دلائل ٹھیک سے بریف نہیں کر پایا ۔

(جاری ہے)

جسٹس جمال مندوخیل نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کسی کے ساتھ فرق نہ ہو ۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فائنل ٹیکس رجیم میں جو ٹیکس لگ گیا، اس کے بعد اور نہیں لگ سکتا ، سپر ٹیکس الگ کیٹیگری میں لگایا گیا ہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا اور دوبارہ سماعت شروع ہونے پر پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وکیل عزیز نشتر اور نجی کمپنی کے وکیل اعجاز احمد زاہد نے اپنے دلائل شروع کیے۔وکیل عزیز نشتر نے اپنے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 18مجھے کاروبار کی اجازت دیتا ہے تو اسی طرح ریاست کو بھی کہتا ہے مجھے کاروبار کا ماحول دے۔

ریاست اور پھر قانون سازی نے مجھے کاروبار کا ماحول نہیں دیا جو آئین مجھے دینے کا کہتا ہے ۔ ٹیکس کی بدترین قسم اس وقت پاکستان میں ہے ۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ سازگار ماحول کیسے پیدا کرنا چاہیے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے ۔ وکیل عزیز نشتر نے جواب دیا کہ مجھے منافع نہیں ہورہا، تب بھی میں ٹیکس دے رہا ہوں ۔ آج کے اس دور میں ریڑھی والے کو بھی جیو ٹیگ لگایا جا سکتا ہے ۔

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو فوری ضرورت پڑی تو اس نے سپر ٹیکس لگا دیا ہے ، جس پر وکیل عزیز نشتر نے کہا کہ انویسٹرز اور کمانے والوں کیلئے سزا کے طور پر سپر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔وکیل اعجاز احمد نے کہا کہ فنانس بل آرٹیکل 73کے تقاضے پورے کیے بغیر پاس ہوا، اس وقت کے وفاقی وزیر نے بیان دیا کہ 300ملین پر 2فیصد ٹیکس لگے گا۔وکیل عزیز نشتر نے کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس ریٹ کو کم جب کہ پرفارمنس پر زیادہ فوکس کرنا چاہئے ۔

وکیل اعجاز احمد زاہد نے کہا کہ 10جون کو بجٹ پیش کیا جاتا ہے اس سے پہلے پالیسی اسٹیٹمنٹ لاگو نہیں ہو سکتی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ڈالر اتنے کا ہی مل رہا ہے جتنے کا پہلے مل رہا تھا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ اگر بین الاقوامی سطح پر انرجی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں بھی بڑھیں گی۔بعد ازاں عدالت نے سماعت جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی۔