سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل دوتہائی اکثریت سے منظور کر لیا

پیر 10 نومبر 2025 23:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 نومبر2025ء) سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل دوتہائی اکثریت سے منظور کر لیا ۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل قائمہ کمیٹی سے رپورٹ کردہ صورت میں ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دی جائےجسے دوتہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترامیم ایک ایک کرکے پیش کیں۔ اپوزیشن کے شور شرابے میں 27ویں ترمیمی بل کی شق وار منظوری کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل نہیں ہوئے اور ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جے یو آئی سینیٹر احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ترمیم کے حق میں 64 اور مخالفت میں صرف 2 ووٹ ڈالے گئے۔

(جاری ہے)

اس طرح حکومت 27ویں آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔اپوزیشن کے اعتراض کے بعد دوبارہ گنتی کی گئی لیکن چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے اور کسی نے مخالفت نہیں کی، آئینی عدالت کے قیام سے متعلق آرٹیکل 42میں ترمیم کثرت رائے سے منظور ہوگئی، آرٹیکل 59میں ترمیم بھی کثرت رائے سے منظور کی گئی۔

آرٹیکل 63اے میں لفظ سپریم کی جگہ وفاقی آئینی عدالت کرنے کی ترمیم منظوری دی گئی، آرٹیکل 68 میں پارلیمانی بحث کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔آرٹیکل 78 میں ترمیم متعلقہ پیراگراف میں وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی ۔آرٹیکل 81 کے دونوں پیراگراف میں عدالت کا اضافہ کرنے کی ترمیم بھی منظورکرلی گئی۔

آرٹیکل 114میں وفاقی آئینی عدالت کا نام شامل کرنے، آرٹیکل 130میں وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافے، آرٹیکل 165 اے میں وفاقی آئینی عدالت کے نام کا اضافہ کرنے آرٹیکل 175 کی تعریف میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا ذکر شامل کرنے اور آئین پاکستان میں آرٹیکل 175اے میں ترامیم منظور کرلی گئیں۔جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ایک ایک سینئر ججز شامل کرنے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کیلئے آرٹیکل 175اے میں ترمیم، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہونے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔

منظور ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہوں گے، سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت نے سینئر ایک ایک جج بھی جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہوں گے۔ آرٹیکل 175 ڈی میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی گئی، آرٹیکل 175ڈی میں آئینی عدالت کے ججز سے دوبارہ حلف لینے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی، آئینی عدالت کے جج آئین پاکستان کے تھرڈ شیڈول کے مطابق حلف لیں گے۔

منظور کردہ ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کا اطلاق پاکستان کی تمام عدالتوں سمیت سپریم کورٹ پر بھی ہوگا، سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کا اطلاق وفاقی آئینی عدالت پر نہیں ہوگا، سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ملک آئینی عدالت کے سوائے ملک کی تمام عدالتوں پر ہوگا، آئینی بنچز میں مفاد عامہ کے تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہوں گے۔

ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں ہائی کورٹ کا وہ جج ممبر بن سکتا ہے جس نے ہائی کورٹ میں کم از کم 5سال بطور جج خدمات دی ہوں۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کو جوڈیشل کمیشن میں نمائندگی دینے کی ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔تمام 59 شقیں دوتہائی اکثریت سے منظور کی گئیں۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نےترامیم کی شق وار منظوری کے بعد مذکورہ بل منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا۔

بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے ایوان میں بل کی منظوری کا طریقہ کار پڑھ کر سنایا۔ پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ چیئرمین سینیٹ نے بل کے حامی اراکین کو دائیں لابی اور مخالف اراکین کو بائیں لابی کی طرف جانے کی ہدایت کی جس کے بعد اراکین کی گنتی کی گئی۔ بل کے حق میں 64 ووٹ جبکہ مخالفت میں کوئی بھی ووٹ نہیں پڑا۔ اس طرح یہ بل دوتہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔