اجمل خٹک کے صد سالہ جشن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

جمعہ 28 نومبر 2025 21:06

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2025ء) عالمی پشتو جرگہ کے چیئرمین پروفیسر اسیر منگل نے کہا ہے کہ اجمل خٹک نے ادب، صحافت اور سیاست کے ذریعے قوم کو آزادی، خودمختاری اور بیداری کا شعوری پیغام دیا۔ انہوں نے یہ خیالات گزشتہ روز عالمی پشتو جرگہ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں اجمل خٹک کے صد سالہ جشن کی مناسبت سے اپنے خطاب میں ظاہر کیے۔

تقریب پشاور میں منعقد ہوئی۔ نامور ترقی پسند ادیب، شاعر، صحافی اور دانشور نور البشر نوید نے اس جشن کی کامیابی میں خصوصی دلچسپی، محنت اور راہنمائی کے ذریعے بنیادی کردار ادا کیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض عالمی پشتو جرگہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عالم یوسف زئی اور فنانس سیکرٹری حمیدالرحمن نادان نے انجام دیے۔ ادیب اور عالمی پشتو جرگہ کے پریس سیکرٹری امجد علی خادم بھی شریک تھے۔

(جاری ہے)

تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ ثقافتی نشست میں نامور فنکار فیاض خان خیشگی نے اجمل خٹک بابا کے منتخب کلام اپنی آواز اور فن کی خوبصورتی میں پیش کیے، جس سے محفل کا حسن دوبالا ہوا۔ نامور سیاسی رہنماں، دانشوروں اور اہلِ فکر شخصیات حاجی غلام احمد بلور، میاں افتخار حسین، افراسیاب خٹک، ممتاز صحافی شمیم شاہد، معروف ادبی شخصیت و کالم نگار سعد اللہ جان برق، عالمی پشتو جرگہ کے جنرل سیکرٹری فریدون خان، سرپرستِ اعلی زبیر خان، سابق پولیس افسر اختر علی شاہ، سابق پولیس افسر، شاعر و ادیب شیخ شوکت حیات، اور نامور ادیب، شاعر و مصنف پروفیسر ڈاکٹر یاسین اقبال نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

مقررین نے واضح کیا کہ اجمل خٹک معاشرے میں انسان دوستی اور رواداری کے قائل تھے۔ جرات اور مزاحمت انہیں اپنے بزرگ خوشحال خان خٹک سے ورثے میں ملی تھی۔ وہ خان عبدالولی خان کے قریبی ساتھی تھے۔ باچا خان کے خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے انہوں نے جدوجہدِ آزادی میں بڑے بڑے قربانیاں دیں۔ جیل اور جلاوطنی جیسی سختیاں بھی برداشت کیں۔حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ اجمل خٹک طویل عرصہ میرے سیاسی رفیق رہے۔

وہ رجحان ساز شخصیت تھے۔ انہوں نے پشتون قوم کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ ایسے لوگ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے اپنی تقریر میں اجمل خٹک کی سیاسی جدوجہد اور ان سے جڑی کئی یادیں بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک ایک عہد کا نام ہیں، خدائی خدمتگار تحریک کے اہم رکن اور خان عبدالولی خان کے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجمل خٹک اپنے اساتذہ اور بزرگوں کا بیحد احترام کرتے تھے، اور ان کی غیرت بھری للکار نے استحصالی طبقات کے محلات کو لرزا دیا تھا۔

افراسیاب خٹک نے اجمل خٹک کے افغانستان میں ایامِ جلاوطنی پر روشنی ڈالی اور عالمی پشتو جرگہ کی جانب سے ان کے صد سالہ جشن کے انعقاد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک ایک عظیم سیاسی رہنما، ادیب، شاعر اور صحافی تھے، اور ان جیسے قومی رہنماں کا ذکر نئی نسل میں قومی شعور اور آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھتا ہے۔ شمیم شاہد نے اجمل خٹک کی صحافتی خدمات پر تفصیل سے گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان جانے سے پہلے اجمل خٹک نے شعبہ صحافت میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ شہباز کے ایڈیٹر رہے اور بانگِ حرم و انجام جیسے اخبارات سے وابستہ رہے۔ وہ اچھے کالم نگار، رپورٹر، تحقیقی صحافی، ادیب اور شاعر تھے۔ انہوں نے کبھی حرص و لالچ سے کام نہ لیا اور نہ ہی اصولوں پر سمجھوتہ کیا۔سعد اللہ جان برق نے اجمل خٹک کی ادبی زندگی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر سیاست انہیں اپنی طرف نہ کھینچتی تو وہ ادب میں اور بھی بڑے مقام حاصل کر سکتے تھے۔

پروفیسر اسیر منگل نے عالمی پشتو جرگہ کے مقاصد، پشتو زبان، ثقافت اور ملت کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک کی شخصیت کی تین مضبوط بنیادیں ادب، صحافت اور سیاست ہیں۔ انہوں نے آخر میں اعلان کیا کہ اپریل 2026 میں عالمی پشتو جرگہ ایک عظیم عالمی کانفرنس کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہے۔ جنرل سیکرٹری فریدون خان نے کہا کہ پشتو زبان، ادب اور پشتون عوام کی فلاح کے لیے کوششیں عرصہ دراز سے جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2015 میں عالمی پشتو کانفرنس، عالمی پشتو کنونشن اور عالمی پشتو کانگریس کو یکجا کرکے عالمی پشتو جرگہ تشکیل دی گئی۔ سرپرستِ اعلی زبیر خان نے اجمل خٹک کے صد سالہ جشن کے شاندار انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک جیسے قومی رہنماں اور ادبی و سیاسی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق پولیس افسر اختر علی شاہ نے کہا کہ اجمل خٹک بہترین قوم پرست تھے جنہوں نے قلم اور زبان دونوں کو قومی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ وہ پشتو زبان اور اپنی سرزمین سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سابق پولیس افسر، شاعر و ادیب شیخ شوکت حیات نے کہا کہ اجمل خٹک کے نثری اور شعری فن نے پشتو ادب میں نئے اسلوب اور فنی تجربات کی راہ ہموار کی۔ پروفیسر ڈاکٹر یاسین اقبال یوسف زئی نے اجمل خٹک کی افسانہ نگاری، تکل نگاری اور ڈرامہ نگاری پر علمی گفتگو کی اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب میں مختلف شاعروں نے اجمل خٹک کے نام منظوم خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔ اس موقع پر اسفندیار خٹک نے پشتونوں کا مشہور خٹک ڈانس بھی پیش کیا۔