پی ٹی آئی رہنمائوں کی پاکستان ٹوبیکو بورڈ پر شدید تنقید

بورڈ نے تمباکو کاشتکاروں کو شروع سے اب تک کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ،نئی کمپنیوں کو لانے میں ناکامی کے باعث دو ملٹی نیشنل و چند قومی کمپنیوں کی اجارہ داری برقرار ہے ، پریس کانفرنس

بدھ 17 دسمبر 2025 19:35

صوابی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 دسمبر2025ء) پاکستان تحریک انصاف ضلع صوابی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے تمباکو کے کاشتکاروں کو شروع سے لے کر اب تک کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے اور اس کے اہلکار نئی کمپنیاں پاکستان میں لانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے دو ملٹی نیشنل اور چند قومی کمپنیوں کی مکمل اجارہ داری برقرار ہے جس کی وجہ سے کسانوں کا استحصال جاری ہے۔

اس سلسلے میں صوابی پریس کلب رجسٹرڈ کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے سابق مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالکریم تورڈھیر ایم پی اے اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماں نے کہا کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے دبئی اور دیگر ممالک میں تمباکو کی نمائشوں میں کاشتکاروں کے نمائندوں کو نہیں بھیجا جس کی وجہ سے برآمد کنندگان کو پاکستان کے تمباکو کے معیار کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں ہم تمباکو کے برآمدی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور مطلوبہ زرمبادلہ حاصل نہیں کر سکے۔

(جاری ہے)

پی ٹی بی پوری خرابی کا ذمہ دار ہے اور اس کے ممبران اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ کمپنیوں کی خریداری کی پالیسی کی حمایت کر رہے تھے،انہوں نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی خواہش پر تمباکو پر 390 روپے فی کلو کا ایڈوانس ٹیکس لگایا ہے۔ اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ اگر کوئی مقامی کمپنی 2 ارب کلو تمباکو برآمد کرنا چاہتی ہے تو اسے تمباکو خریدنے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے درکار ہوں گے اور اسے ایڈوانس ٹیکس کی مد میں ایک ارب روپے درکار ہیں، تو وہ اتنے بڑے سرمائے کا بندوبست کہاں سے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے وفاقی حکومت کو ایڈوانس ٹیکس ختم کر کے مقامی کمپنیوں کو کاروبار کرنے کا موقع دینا چاہیے اور یہ وفاقی حکومت، کمپنیوں اور کاشتکاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں نے رواں سال 175 روپے فی کلو کی کم قیمت پر تمباکو سرپلس تمباکو کی صورت میں خریدا جس سے کسانوں اور حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور فائدہ صرف کمپنیوں کو ہوا ہے ،انہوں نے کہا، تمباکو کمپنیوں نے آنے والے سال کے لیے اپنی مانگ کو کم کر دیا ہے، جس سے خریداری کے ایک اور اہم موسم اور استحصال کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال تمباکو کے کاشتکاروں کے ساتھ کمپنیوں کی جانب سے ناروا سلوک کیا گیا، انہیں تین چار راتیں کھلے آسمان اور چلچلاتی دھوپ کے نیچے خریداری مراکز کے سامنے لائنوں میں گزارنے پر مجبور کیا گیا، جب ان کی باری آتی تو لیف مینیجرز مختلف حیلوں بہانوں سے کاشتکاروں کے تمباکو کو مسترد کر دیتے اور کمزور مال بالکل نہیں خریدتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سال میں ہر کسان کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کاشتکار اب مالی طور پر دیوالیہ اور ذہنی طور پر پریشان ہیں۔