iپاکستان اگلے ماہ چین میں پہلا پانڈا بانڈ جاری کرے گا

اتوار 21 دسمبر 2025 20:50

&اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 دسمبر2025ء) پاکستان اگلے ماہ جنوری میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ یوآن میں نامزد ایک خودمختار بانڈ ہوگا جو چین کی مقامی مالیاتی منڈی میں جاری کیا جائے گا۔ یہ اقدام چین کے ساتھ مالی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور پاکستان کے بیرونی مالی وسائل میں تنوع لانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

گوادر پرو کے مطابق یہ مجوزہ اجرا پاکستان کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد قرضوں کی پائیداری کو مضبوط بنانا، ڈالر میں قرض لینے پر انحصار کم کرنا اور مشکل عالمی مالی حالات کے تناظر میں چین کی گہری اور مستحکم مقامی سرمایہ مارکیٹس سے فائدہ اٹھانا ہے۔گوادر پرو کے مطابق پانڈا بانڈز رینمن بی (یوآن) میں نامزد مالیاتی آلات ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے جاری کرتے ہیں اور چینی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان کے لیے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں داخلہ ایک اسٹریٹجک قدم ہے جس کا مقصد زرِ مبادلہ کے خطرات کو کم کرنا اور متبادل، مارکیٹ پر مبنی مالی ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔گوادر پرو کے مطابق وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پانڈا بانڈ پروگرام کو ایک منظم اور مرحلہ وار مالی حکمتِ عملی کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو محتاط قرض انتظامی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

’’ یہ بیان وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت مجوزہ اجرا پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر کے پانڈا بانڈ پروگرام کا ارادہ ہے، جس کے تحت ابتدائی قسط تقریباً 250 ملین امریکی ڈالر کے مساوی ہوگی، تاہم اس کا انحصار چینی حکام کی جانب سے حتمی ریگولیٹری منظوری پر ہوگا، جس کی توقع جنوری کے اوائل میں ہے۔

پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت آئندہ اجرا کے لیے تیاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔گوادر پرو کے مطابق وزارت نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے کثیرالجہتی شراکت داروں سے ضروری منظوری حاصل کر لی ہے، جبکہ چینی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور اصلاحاتی پیش رفت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔

قیمتوں کا تعین مارکیٹ سے قریبی رابطے ، ریگولیٹری تقاضے مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔گوادر پرو کے مطابق اس وقت پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب امریکی ڈالر کے 37 ماہ کے پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور توانائی و سرکاری اداروں سمیت اہم شعبوں میں ساختی اصلاحات شامل ہیں۔

عالمی مالیاتی منڈیوں میں زائد قرض لاگت نے اسلام آباد کو متبادل مالی ذرائع، بشمول یوآن میں نامزد مالیاتی آلات، تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔گوادر پرو کے مطابق پانڈا بانڈ کا اجرا نہ صرف قرضوں کی پائیداری میں معاون ثابت ہوگا بلکہ چین کے ساتھ مالی اور اقتصادی تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنائے گا جو پاکستان کا دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار ہی