لاہور/ایبٹ آباد/ سوات/کوئٹہ/ مظفر آباد/کراچی/مری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2026ء) آزاد
کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا، بالائی علاقوں میں کئی کئی فٹ برف پڑنے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں تاہم پاک
فوج اورضلعی انتظامی اداروں کی بروقت کارروائیوں سے درجنوں افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔
تفصیلات کیمطابق آزاد
کشمیر ، گلگت بلتستان اور
مری سمیت ملک کے پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور سردی کی شدت بھی بڑھ گئی ۔ اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و
کشمیر میں
بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا تاہم وادی لیپہ ، بالائی نیلم، سدھن گلی ، پیر چناسی ، محمود گلی، لسڈنہ بیشتر بالائی علاقوں کی شاہراہیں برفباری سے بند ہوگئیں جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ،شدید برف باری بالائی علاقوں میں نظام زندگی متاثر ہوگیا،
بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔
(جاری ہے)
حکام کے مطابق مظفرآباد میں درجہ حرارت منفی سات تک گر گیا۔آزاد
کشمیر میں شدید برفباری کے باعث ضلع حویلی کی حدود میں ایمبولینس سمیت 25 کے قریب
گاڑیاں پھنس گئیں تاہم پاک
فوج نے 32 مسافروں کو ریسکیو کرلیا۔ایمبولینس میں موجود 2 میتیں بھی نکال لی گئیں۔ اطلاعات کے مطاب قگاڑیوں میں 100کے قریب افراد سوار تھے۔ حکام کے مطابق مظفرآباد میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ادھر وادی نیلم میں شدید برف باری سے 3 مکانات گر گئے۔
اطلاعات کے مطابق آزاد
کشمیر کے علاقوں میں برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہیں بند ہوگئیں،
بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔دوسری جانب وادی کاغان میں برف باری سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ بند کردیا، سیاحوں کو بالا کوٹ میں روک لیا گیا جبکہ دیربالا،کمراٹ، لواری ٹنل، باجوڑ میں بھی برف باری سے راستے بند ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق ملاکنڈ میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، کچھ مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے تاہم خیبر میں بھی برفباری کے باعث پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل دن بھرجاری رہا۔ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کر دیا گیا،شانگلہ ٹاپ میں22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔
ادھرچلاس اور اپرکوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند رہی جس کے باعث سیکڑوں مسافر اور مال بردار
گاڑیاں پھنسی رہیں ادھر
سوات کی تحصیل مٹہ کے بیشتر علاقوں مانڈل ڈاگ، سلاتنڑ، چاتیکل اور نلکوٹ کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند ہو گئیں جس کے نتیجے میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور معمولاتِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کالام روڈ پر بھی مختلف مقامات پر
ٹریفک شدید متاثر رہا جبکہ برف ہٹانے کا عمل سست روی کا شکار دکھائی دیا۔ ’’این این آئی ‘‘کے نمائندے کے مطابق بیشتر علاقوں میں
بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،طبی ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر ہسپتال پہنچایا گیا، مقامی شہریوں نے بتایا کہ اس مشکل وقت میں انتظامیہ اور منتخب مقامی نمائندے غائب ہیں، عوامی حلقوں نے صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سڑکوں کی بحالی،
بجلی کی فراہمی اور ریسکیو و طبی سہولیات یقینی بنائی جائیں تاکہ متاثرہ آبادی کو ریلیف مل سکے۔
دریں اثناء استور میں شدید برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق راما میڈوز دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں5 سی6 فٹ تک برف پڑ ی، مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے روڈ بلاک رہا،ہنزہ اور نگر میں برفباری سے رابطہ
سڑک بندرہی، وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم
زلزلہ متاثرین کو سخت سردی میں مشکلات کا سامنا رہا،نتھیاگلی میں تین فٹ سے زائد ، ٹھنڈیانی میں چارفٹ تک برف پڑی، جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثرہوگئے، برفباری کے بعد نتھیاگلی میں درجہ حرارت منفی9 ڈگری سینٹی گریڈ ، ایبٹ آباد میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ
ریکارڈ کیا گیا ادھر شمالی بالائی
بلوچستان میں برفباری کا سلسلہ تھم گیا تاہم سائبرین ہواؤں کا راج برقرار رہا۔
شدید سردی کے سبب
کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں گھروں کی پائپ لائنوں میں
پانی جم گیا ، تالابوں اور سڑکوں پر بھی
پانی منجمد ہوگیا۔شہریوں کو پینے کے
پانی کی
قلت کا سامنا ہے
،کوئٹہ زیارت شاہراہ کئی مقامات پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔حکام کے مطابق اگلے 24گھنٹوں تک سیاحوں کی زیارت جانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ این 50 ڑوب ہائی وے کئی مقامات پر بند کردی گئی۔
چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، پشین، توبہ اچکزئی، اور دیگر علاقوں میں نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا، بالائی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 12 تک گرگیا۔انتظامیہ کی جانب سے نمک پاشی اور جدید مشینری سے برف کو ہٹانے کیلئے آپریشن کیا گیا۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بتایا کہ این ایچ اے کی بالائی علاقوں میں پھسلن سے بچاؤ کیلئے نمک پاشی جاری ہے۔
ادھر ڈسٹرکٹ
پولیس آفیسر
مری، ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور
پولیس کی مشترکہ کاوشوں سے
مری کے تمام راستے کلیئر کر دیے گئے ہیں۔
مری میں سنہری دھوپ نکلتے ہی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جبکہ شاہراہوں پر
پولیس اور تمام سکیورٹی ادارے سیاحوں کی حفاظت اور راہنمائی کے لیے الرٹ ہیں۔ڈی پی او مری
ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے اپنے بیان میں کہا کہ برف باری کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں نے مل کر کام کیاجس کی بدولت اب
مری کی تمام رابطہ سڑکیں
ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھلی ہیں۔
انہوں نے سکیورٹی صورتحال اور سیاحوں کی سہولت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ
مری میں سیاحوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
پولیس اور تمام متعلقہ سکیورٹی ادارے فیلڈ میں موجود ہیں اور ہر موڑ پر سیاحوں کی راہنمائی اور مدد کے لیے دستیاب ہیں۔ کسی بھی مشکل کی صورت میں سیاح فوری طور پر وہاں موجود اہلکاروں سے رجوع کر سکتے ہیں
۔ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے بتایا کہ مری
پولیس اور
ٹریفک پولیس کے خصوصی دستے
ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے دن رات ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تاکہ وہ اپنے سفر کو محفوظ اور خوشگوار بنا سکیں
۔مری میں اس وقت
موسم انتہائی خوشگوار ہے اور انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں کی آمد و رفت کے لیے راستے مکمل طور پر کھلے رکھنے کے انتظامات مکمل ہیں دریں اثناء حکام کے مطابق بالائی اضلاع میں بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ (آج) اتوار کی رات سے منگل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا نے الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 25 سی27 جنوری تک مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ متوقع ہے، جس کے تحت چترال، دیر،
سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید
بارش اور برفباری ہو سکتی ہے،اس کے علاوہ بالائی علاقوں میں چندمقامات پر شدید برفباری اور درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے جبکہ ہری پور،
پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ
بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے ادھر ناران، کاغان، کالام اور چترال میں سڑکیں بند اور پھسلن کا خدشہ ہے اور بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودیگرنیکا بھی خطرہ ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کرتے ہوئے پیشگی اقدامات کی ہدایت کردی گئی ہے۔دوسری جانب صوبائی دارالحکومت
کراچی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی
ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق
کراچی میں مجموعی طور پر کم سے کم درجہ حرارت 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، یہ درجہ حرارت معمول سے 3.5 ڈگری کم ہے
۔جناح ٹرمینل اور اطراف کے علاقے سب سے سرد رہے،
جناح ٹرمینل پر کم سے کم درجہ حرارت 6.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہا جبکہ بن قاسم میں درجہ حرارت 8.6 ڈگری سینٹی گریڈ
ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گلستانِ جوہر میں پارہ 8.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ گیا، شارع فیصل اور ماڑی پور میں درجہ حرارت 9.5 ڈگری سینٹی گریڈ
ریکارڈ کیا گیا۔