سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت

منگل 27 جنوری 2026 14:17

سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 جنوری2026ء) سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ کی جانب سے دائر نظرِ ثانی درخواست پر عدالت نے وکلا کو تیاری کی ہدایت کر دی۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ کی جانب سے چیئرمین او جی ڈی سی ایل کو تقرری لیٹرز جاری کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔

اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ تقرریوں کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہوتا ہےجس کے تحت اشتہار دیا جاتا ہے۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ وزیر کے پرنسپل سٹاف آفیسر نے تحریری طور پر لکھا کہ نوکریوں کے لیے پارلیمنٹ کا دباؤ ہے جبکہ اپائنٹمنٹ لیٹر بھی وفاقی وزیر کے دفتر بھجوائے گئے۔

(جاری ہے)

جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیئے کہ عوام وزرا سے نوکریاں تو مانگتے ہیں۔

اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ وزیرِ اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ان پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہوتے۔نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر سول سرونٹس احکامات ماننے سے انکار کریں تو ان پر مشکلات آ جاتی ہیں، جبکہ او جی ڈی سی ایل میں اوور سٹاف بھرتیاں کی گئیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ہر سرکاری ادارے میں اوور بھرتیاں موجود ہیں اور پی آئی اے کا موازنہ دیگر بین الاقوامی ایئر لائنز سے کیا جانا چاہیے۔

نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ پی آئی اے میں اوور بھرتیوں کے باعث ہی نجکاری کی نوبت آئی۔سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ جس وقت یہ بھرتیاں کی گئیں اس وقت احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزیر اپنی سزا بھگت چکے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا سزا پوری ہونا ہی کافی ہے؟نیب کے وکیل نے عدالت سے نظرِ ثانی درخواست خارج کر کے سابقہ فیصلہ برقرار رکھنے کی استدعا کی۔ اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ سزا کا ایک داغ تو باقی رہتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت کے لیے کیس ملتوی کرتے ہوئے وکلاکو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔