اب پاکستان سے گاڑیاں باہر جائیں گی! ملین ڈالرز کمانے کیلئے دبئی طرز کا 'درآمد، مرمت، برآمد' فارمولہ تجویز

بیرونِ ملک سے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جائیں گی، انہیں پاکستان میں مرمت کیا جائے گا اور پھر دوبارہ بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کر دیا جائے گا

Sajid Ali ساجد علی بدھ 6 مئی 2026 10:41

اب پاکستان سے گاڑیاں باہر جائیں گی! ملین ڈالرز کمانے کیلئے دبئی طرز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2026ء) وفاقی حکومت نے ملکی برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے نئی آٹو پالیسی 2026/31ء میں دبئی کے جبلِ علی ماڈل کی طرز پر استعمال شدہ گاڑیوں کی ری ایکسپورٹ کا منصوبہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان اپنی نئی آٹو پالیسی 2026/31ء کے تحت ایک ایسا نظام متعارف کروانے جا رہی ہے جس کے ذریعے بیرونِ ملک سے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جائیں گی، انہیں پاکستان میں مرمت کیا جائے گا اور پھر دوبارہ بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کر دیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا ڈھانچہ دبئی کے مشہورِ زمانہ جبلِ علی فری زون کے ماڈل پر تیار کیا گیا ہے، جس طرح دبئی دنیا بھر سے گاڑیاں منگوا کر انہیں ری کنڈیشن کرکے دیگر ممالک کو فروخت کرتا ہے، بالکل اسی طرح پاکستان بھی اس منافع بخش کاروبار کا حصہ بنے گا، اس تجویز کو سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی جانب سے بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، کونسل کا ماننا ہے کہ پاکستان کی سستی لیبر اور جغرافیائی اہمیت اس کاروبار کو ملین ڈالرز کی صنعت میں بدل سکتی ہے، جس سے برآمدی اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت اس کام کے لیے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن سکیم کا استعمال کیا جائے گا، اس سکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی میں خصوصی رعایت دی جائے گی، ان گاڑیوں کی مرمت کے لیے درکار پرزہ جات کی درآمد پر بھی ٹیکس مراعات ملیں گی، بشرطیکہ وہ گاڑیاں دوبارہ برآمد کی جائیں، یہ آٹو پالیسی اس وقت انتہائی اہم مرحلے پر ہے، پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پالیسی ملک کے مجموعی معاشی فریم ورک اور ریونیو اہداف کے مطابق ہو۔

بتایا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس جامع پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اس منصوبے سے ناصرف اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوگا بلکہ ہزاروں ہنر مند افراد (مکینکس، ٹیکنیشنز اور انجینئرز) کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، پاکستان کی آٹو انجینئرنگ کی صلاحیتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوگا، ملکی برآمدات میں تنوع آئے گا، جو اس وقت چند محدود شعبوں تک منحصر ہیں۔