فلسطینیوں کے مصائب کا حل الگ ریاست کے قیام میں مضمر، یو این کمیٹی

یو این بدھ 4 فروری 2026 22:00

فلسطینیوں کے مصائب کا حل الگ ریاست کے قیام میں مضمر، یو این کمیٹی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 فروری 2026ء) فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق یقینی بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے غزہ میں غیر مستحکم جنگ بندی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل توسیع کے تناظر میں مسئلے کا دو ریاستی حل نکالنے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش کا عمل آگے بڑھانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ زمینی حالات بدستور انتہائی نازک ہیں اور یہ سوال درپیش ہے کہ آیا نیا سال امن لائے گا یا اس میں مزید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Tweet URL

انہوں نے غزہ میں شہریوں کی مسلسل تکالیف، بڑھتی ہوئی نقل مکانی اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 37 ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے۔

(جاری ہے)

سیکرٹری جنرل نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کی حمایت کا اعادہ بھی کیا اور مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے تقدس اور عملے کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل۔فلسطین تنازع کے حل کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔

تیزرفتار سیاسی تصفیے کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دو ریاستی حل کے تحت اسرائیل اور ایک مکمل طور پر آزاد، جمہوری، جغرافیائی طور پر مربوط، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست 1967 سے پہلے کی حالت میں محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر پرامن طور سے رہیں گے اور یروشلم دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہو گا۔

نومنتخب چیئرمین کولی سیک نے مسئلہ فلسطین کے سیاسی تصفیے کی جانب تیزرفتار سے کام کرنے اور انسانی و قانونی اصولوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی ذمہ داری اور ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا کام جاری رہنا اس کے ارکان اور مبصرین کی حمایت کا نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاست کے مستقل مندوب ریاض منصور نے کمیٹی کے کام کا خیر مقدم کیا اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی غزہ میں بلا رکاوٹ رسائی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر جوابدہی کے مطالبات دہرائے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم اس کمیٹی اور ان حکومتوں کے کام کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جو ان کے ناقابل تنسیخ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔

فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ

یہ کمیٹی 1975 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کی تھی جو فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق بشمول حق خود ارادیت، قومی خودمختاری اور ان کی اپنے علاقوں اور گھروں کو واپسی کے حق کے لیے کام کرتی ہے۔

کمیٹی ہر سال جنرل اسمبلی کو رپورٹ پیش کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے ڈویژن برائے فلسطینی حقوق کے ذریعے وکالت، بین الاقوامی اجلاسوں اور استعداد سازی کی سرگرمیوں کو مربوط کرتی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین کولی سیک اقوام متحدہ میں پرتگال کے مستقل سفیر ہیں جنہوں نے حالیہ اجلاس میں ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔