مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی معیشت کیلئے نیاخطرہ ہے

شرح نمومتاثرہوسکتی ہے، جاری سال کیلئے نموکی شرح 3.1 فیصد اورآئندہ سال 3.2فیصد تک رہنے کاامکان ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

منگل 14 اپریل 2026 22:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اپریل2026ء) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث عالمی معیشت ایک بار پھر عدم استحکام کے خطرے سے دوچار ہو گئی ہے جس سے ترقی ونمو کی رفتار کم اور مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے، آئی ایم ایف نے جاری سال کیلئے نموکی شرح 3.1 فیصد اورآئندہ سال 3.2فیصد تک رہنے کاامکان ظاہرکیاہے۔

یہ بات عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پرآئی ایم ایف کی جانب سے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کے نام سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال عالمی معیشت کو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور نسبتاً نرم مالیاتی حالاتو حکومتی پالیسی سپورٹ جیسے عوامل سے سہارا ملا تھا مگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اب ان مثبت اثرات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس جنگ نے خاص طور پر توانائی اور دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں، مہنگائی کی توقعات اور مالیاتی حالات پر دباؤ بڑھایا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں عالمی معاشی ترقی 3.1 فیصد اور 2027 3.2 فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہ ہوتی تو 2026 کی ترقی کی شرح تقریباً 3.4 فیصد تک بڑھ سکتی تھی، نموکی شرح میں موجودہ کمی کا بڑا سبب یہی تنازع ہے۔

رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2026 میں مہنگائی کی شرح 4.4 فیصد اور 2027 میں 3.7 فیصد تک رہنے کا امکان ہے تاہم اگر توانائی کی قیمتیں زیادہ عرصہ بلند رہیں یا توانائی کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی یا شدت اختیار کر گئی تو عالمی ترقی 2.5 فیصد تک گرنے جبکہ مہنگائی 5.4 فیصد تک پہنچنے کے امکانات ہیں اگر توانائی کے ڈھانچے کو شدید نقصان ہوا تو عالمی ترقی صرف 2 فیصد رہ جائے گی جبکہ اس صورت میں مہنگائی 6 فیصد سے بھی اوپر جا سکتی ہے،آئی ایم ایف کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اس صورتحال کا اثر ترقی پذیر خاص طور پر توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر تقریباً دوگنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی تنازعات، تجارتی جھگڑے، اور حکومتی قرضوں میں اضافہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے بڑے خطرات بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو قیمتوں اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے،سرکاری قرض اور بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے،ضرورت پڑنے پر زرمبادلہ کی مارکیٹ میں عارضی مداخلت، معاشی طورپرکمزورطبقات کے لیے ہدفی اور عارضی مالی امدادکی فراہمی، معیشیت میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور بین الاقوامی تجارت اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معیشت اس وقت جنگ، مہنگائی اور توانائی کے بحران کے سائے میں ہے۔ اگر تنازعہ جلد ختم ہو گیا تو اثرات محدود رہیں گے لیکن اگر یہ طویل ہوا تو دنیا خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔