Live Updates

سعودی عرب میں پاکستانی فوج: خطرات اور سوالات

DW ڈی ڈبلیو اتوار 19 اپریل 2026 13:40

سعودی عرب میں پاکستانی فوج: خطرات اور سوالات

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 اپریل 2026ء) اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی امن مذاکرات کی میزبانی کے دوران پاکستان نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کو فعال کر دیا۔ اس کے تحت پاکستان سے 13 ہزار فوجی اور جے ایف-17 طیاروں کا ایک اسکواڈرن سعودیہ کے مشرقی صوبے ظہران میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچے، جو ایران کے قریب ایک اہم اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔

"تعاون کوئی نئی بات نہیں"

اس اقدام کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا یہ ماضی کے دفاعی تعاون سے مختلف ہے؟ کیا اس سے پاکستان کی غیر جانبداری متاثر ہو گی؟ اور کیا یہ اسے کسی بڑے علاقائی تنازع میں کھینچ سکتا ہے؟

اس تناظر میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں، اور پاکستان ماضی میں بھی سعودی عرب میں مقدس مقامات کے تحفظ میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

(جاری ہے)

جنرل لودھی اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان کسی ممکنہ تنازع میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا۔ ان کے بقول، "یہ امکان انتہائی کم ہے، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کسی صورت نہیں ہوگا کہ پاکستان ایران پر حملہ کرے۔"

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے یقیناً ایران کو اپنے اس فیصلے پر اعتماد میں بھی لیا ہو گا، کیونکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کو اپنی افواج سعودی عرب بھیجنی تھیں، لہٰذا ایران کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

اس کے علاوہ جنرل نعیم لودھی یہ بھی کہتے ہیں، "میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی افواج کا اس وقت خلیج میں ہونا خود پاکستان کے لیے بھی دفاعی اعتبار سے فائدہ مند ہے، کیونکہ اسرائیل مستقبل میں پاکستان کے خلاف بھی جارحیت کر سکتا ہے، اور خطے میں افواج کی موجودگی کی صورت میں پاکستان زیادہ بہتر طریقے سے کسی بھی جارحیت کا جواب دے سکتا ہے۔

"

ماضی میں پاکستان نے کب کب سعودی عرب کو دفاعی خدمات مہیا کیں؟

پاکستان کا سعودی عرب کی سکیورٹی کے لیے کردار 1960 کی دہائی سے جاری ہے، جب پاکستانی پائلٹس نے رائل سعودی ایئر فورس کے قیام میں مدد دی۔

یہ تعاون 1980 کی دہائی میں عروج پر پہنچا، جب پاکستان نے ہزاروں فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات کیے، جبکہ 1991 کی خلیجی جنگ میں بھی پاکستانی فوج نے سعودی سرزمین کے دفاع میں حصہ لیا۔

تاہم 2015 میں یمن جنگ کے معاملے پر پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ تناؤ بھی آیا۔

اس دفعہ پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں تعیناتی ماضی سے مختلف کیوں ہے؟

ماہرین کے مطابق 2026 کی حالیہ تعیناتی ماضی کے مقابلے میں مختلف ہے، کیونکہ اس بار پاکستانی افواج خطے میں دو بڑی طاقتوں کی کشمکش کی وجہ سے زیادہ حساس مقام پر تعینات ہیں، اور اس مرتبہ پاکستان کی فوج صرف مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ سعودی عرب کی بطور ریاست مجموعی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کے مطابق اگرچہ پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فوج بھیجنے کا پابند تھا، تاہم ان کے خیال میں موجودہ صورتحال میں اگر اس سے کسی حد تک اجتناب کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔

ان کے مطابق پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال بھی اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’حالیہ عرصے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے مالی معاملات پر دباؤ کے بعد پاکستان کو سعودی عرب سے مدد لینا پڑی، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے اور وہ اپنی شرائط منوانے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔

‘‘

پاکستان اس نازک توازن کو برقرار رکھ پائے گا یا نہیں؟

ایسے میں سوال یہی ہے کہ آیا پاکستان اس نازک توازن کو برقرار رکھ پائے گا یا نہیں۔ اسلام آباد کے ایک جانب ریاض کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات ہیں، تو دوسری جانب تہران اس کا ہمسایہ بھی ہے اور دونوں کے مابین دیرینہ مگر حساس تعلقات بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال اور بڑی طاقتوں کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ پاکستان اس پیچیدہ صورتحال میں کس حد تک خود کو غیر جانبدار رکھ پاتا ہے۔

عائشہ صدیقہ بھی کسی حد تک جنرل نعیم خالد لودھی سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ’’پاکستان نے ممکنہ طور پر سعودی عرب فوج بھیجنے سے قبل ایرانی حکام کو اعتماد میں لیا ہو گا، تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔‘‘

وہ کہتی ہیں، "ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی افواج کو ایسی کسی مشکل صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جہاں ایران کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ ہو، اور میرے خیال میں ایسا ہونا بعید از قیاس ہے۔

"

یاد رہے کہ خطے میں کشیدگی کے دوران سعودی عرب کو بھی خطرات لاحق رہتے ہیں، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی حملوں کی صورت میں ایران سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے بعض مقامات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکہ کے اڈے موجود ہیں، لہٰذا ان پر حملے جائز ہیں۔ اس وقت اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر برقرار ہے، لیکن کوئی بھی بگاڑ پہلے جیسے حالات پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہپاکستان اس صورتحال میں کس پوزیشن میں ہو گا؟

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات