کشمیریوں کی بے بسی، محرومیوں اور مصیبتوں کا ذمہ دار بھارت ہے،عزیر احمد غزالی

پیر 27 اپریل 2026 14:47

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اپریل2026ء) کشمیریوں کی بے بسی، محرومیوں اور مصیبتوں کا ذمہ دار بھارت ہے، لائن آف کنٹرول پر راجہ لیاقت علی خان کی میت اور دریا کے اُس پار بہن کے آنسو بھارتی جبر کے خلاف ایک ریفرنڈم ہیں: عزیر احمد غزالی۔ چیئرمین پاسبانِ حریت جموں کشمیر عزیر احمد غزالی نے کہا ہے کہ بھارت نے ریاست جموں کشمیر کے وسیع جغرافیائی حصے، آبادی اور وسائل پر فوجی قبضہ جما کر ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کے حقوق، آزادی اور زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ صرف ریاست کی سرزمین پر قبضہ برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔عزیر احمد غزالی نے کہا کہ اگر بھارت میں ذرہ برابر بھی جمہوری یا انسانی ضمیر باقی ہے تو اسے جموں کشمیر میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کا اعلان کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر کے عوام بھارتی ظالمانہ راج سے مکمل آزادی چاہتے ہیں۔میڈیا کو جاری ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت لاکھوں کشمیریوں کو خوف، اذیت اور دائمی عدم تحفظ میں مبتلا رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرن میں دریا کے کنارے رکھی راجہ لیاقت علی خان کی میت اور آزاد کشمیر میں دریا کے اُس پار اپنے بھائی پر نوحہ کناں بہنوں کے آنسو بھارتی بربریت، جبر اور کشمیر کی تقسیم کے خلاف ایک خاموش مگر طاقتور ریفرنڈم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1947 میں بھارتی فوجی قبضے کے بعد سے کشمیری عوام مسلسل مصائب، ظلم اور آزمائشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ 1947، 1965 اور 1971 میں لاکھوں کشمیری جموں اور دیگر علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہوئے، جبکہ اس کے بعد بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانیت کے خلاف ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جو زندہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہزاروں خاندان خونی لکیر عبور کرکے پاکستان ہجرت پر مجبور ہوئے، جو بھارتی ظلم و استبداد کی واضح شہادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر وسیع فوجی تعیناتی، خاردار تاروں، فوجی پکٹوں اور چھاؤنیوں کے ذریعے بھارت نے کشمیری عوام کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے ہر گھر، ہر گلی، ہر گاؤں اور ہر شہر میں بھارتی مسلح اہلکار کھڑے ہیں اور پورے خطے کو ایک فوجی کالونی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔چیئرمین پاسبانِ حریت نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کو ایک بڑی جیل میں بدل دیا۔

انہوں نے کہا کہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کی موجودگی ایک کروڑ تیس لاکھ کشمیریوں کو گھٹن اور جبر کے ماحول میں رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افسپا، پوٹا، ٹاڈا، یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین نافذ کرکے بھارت نے کشمیریوں سے آزادی اظہار اور دیگر بنیادی انسانی حقوق چھین لیے ہیں، جبکہ چار ہزار سے زائد کشمیری آزادی، انصاف اور حقوق کا مطالبہ کرنے پر بھارت کی دور دراز جیلوں میں قید ہیں۔

عزیر احمد غزالی نے کہا کہ بھارت ایک سامراجی طاقت کی طرح جموں کشمیر پر مسلط ہے، جہاں اسلامی تشخص، مسلم اکثریت اور کشمیری ثقافت شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 دسمبر 2023 کو بھارتی سپریم کورٹ کا جموں کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ قرار دینا ایک جانبدار اور ظالمانہ فیصلہ ہے، جسے کشمیری عوام مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کو بھارتی جبر اور استبداد کے خلاف ریاست گیر مزاحمت کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ آزادی، حقوق اور انصاف جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں۔

عزیر احمد غزالی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان سلگتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق تنظیموں اور انصاف پسند قوتوں سے اپیل کی کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارتی جنگی جرائم کے خاتمے اور لائن آف کنٹرول کے آر پار لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی، سیاسی اور اخلاقی مسئلہ ہے، اور اس کا واحد منصفانہ حل کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق، یعنی آزادانہ اور غیر جانبدار استصوابِ رائے دینا ہے۔